خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 781
خطبات طاہر جلد ۱۰ 781 خطبہ جمعہ ۲۷ ستمبر ۱۹۹۱ء کی علامتیں سجدوں کے اثر سے ان کے چہروں پر لکھی گئی ہیں اور ان کے چہروں پر جگہ جگہ بے شمار جس دائرہ کار میں آپ کا تعلق کسی حکومت کے نمائندے سے ہو آپ کو وہاں سجدوں کے نتیجے میں نور کی کوئی علامت دکھائی نہیں دے گی بلکہ نحوست دکھائی دے گی۔کچھ لوگ انگلستان سے پاکستان گئے واپسی پر میں نے ان سے پوچھا انہوں نے کہا ہم پہلے پاکستانی تھے پاکستان سے تعلق تو بہر حال ہے وہ تو کبھی ٹوٹ نہیں سکتا مگر شاید اس تعلق کی وجہ ہے کہ بے حد دلبرداشتہ ہو کر لوٹے ہیں بعض ماؤوں نے کہا کہ بچوں کو بڑے شوق سے لے کر گئے تھے لیکن اتنی تکلیف ہوئی ہے جا کر آپ اندازہ نہیں کر سکتے۔چھوٹی سے چھوٹی چیز میں بھی رشوت نہ دو تو کام نہیں بنتا۔سیٹ بک کروانے کے لئے بھی رشوت دینی پڑتی ہے۔انہوں نے یہاں تک بتایا کہ پی آئی اے کے جہاز میں لاہور سے بک ہوئی ہوئی سیٹ ہمیں دینے سے انکار کر دیا سیٹیں بھر چکی ہیں۔پھر کسی نے سمجھایا کہ بیوقوف پیسے دے دو تو تمہاری ریز روسیٹ تمہیں ملے گی۔تو ہر شعبہ زندگی میں بد دیانتی اپنے کمال کو پہنچ چکی ہے اور اسلام کی باتیں جو ختم ہونے میں ہی نہیں آ رہی ہیں۔کچھ سمجھ نہیں آتی یہ کون سا اسلام ہے۔کن رگوں میں دوڑ رہا ہے، وہ کیا خون ہے جو نعوذ باللہ من ذالك اس نام سے پلید ہورہا ہے یہ نام تو خونوں کو پاک کرنے والا نام تھا۔یہ نام تو جس رگ میں دھڑ کے اس رگ کو زندہ کر دیتا ہے۔جس لہو میں شامل ہوا سے پاکیزہ بنادیتا ہے۔یہ وہی نام ہے جس نے حضرت محمد مصطفی ہے اور آپ کے غلاموں کونئی روحانی زندگی عطا کی تھی۔ایک روحانی انقلاب بر پا کر دیا تھا۔آج یہ الٹ کیسے چل رہا ہے۔یہ سوچنے کی بات ہے لیکن قرآن کریم جیسا کہ فرماتا ہے ان کے دلوں پر تالے پڑ چکے ہوں۔اگر دلوں پر تالے پڑ چکے ہوں تو پھر کوئی علاج نہیں مگر قرآن کریم نے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ لَهُم مَّكْرُ فِي آيَاتِنَا کہ اپنے نفس کو قائل کرنے کے لئے بہانے ضرور تلاش کرتے ہیں۔کوئی نہ کوئی مکر بنا لیتے ہیں۔آجکل یہ مکر چلا ہوا ہے ملاں اپنی خفت مٹانے کی خاطر یہ عوام کو بار آور کروانے کے لئے کہ یہ ساری نحوستیں ہماری نہیں اور ہماری فرضی شریعت کی نہیں بلکہ اس بات کی نحوست ہیں کہ ہماری Brand کا اسلام کیوں نہیں آیا۔پھر نواز شریف Brand کا اسلام کیوں آیا ہے یا بے نظیر بھٹو Brand کا اسلام کیوں لایا جائے گا۔جب تک ہماری Brand ہماری قسم کا اسلام نافذ نہیں ہوتا اس وقت تک تم لوگ بچتے نہیں حالانکہ وہ آخری تنکا ہو گا جو کمر توڑنے والا ہو صد الله