خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 71 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 71

خطبات طاہر جلد ۱۰ 71 خطبہ جمعہ ۲۵ / جنوری ۱۹۹۱ء اے توحید کے پرستارو!وہ آپ ہیں جو نئی عمارتیں تعمیر کریں گے نئی اقوام متحدہ کی عظیم الشان فلک بوس عمارتیں تعمیر کرنے والے تم ہو۔اے مسیح محمدی کے غلامو! جن کے سپرد یہ کام کیا گیا ہے تم دیکھو گے۔آج نہیں تو کل دیکھو گے، اگر تم نہیں دیکھو گے تو تمہاری نسلیں دیکھیں گی۔اگر کل تمہاری نسلیں نہیں دیکھیں گی تو پرسوں ان کی نسلیں دیکھیں گی۔مگر یہ خدا کے منہ کی باتیں ہیں اور اس کی تقدیر کی تحریریں ہیں جنہیں دنیا میں کوئی مٹا نہیں سکتا۔آپ وہ مزدور ہیں جنہوں نے وہ نئی عمارتیں تعمیر کرنی ہیں۔نئی اقوام متحدہ کی بنیا دیں تو ڈالی جا چکی ہیں، آسمان پر پڑ چکی ہیں ان کی عمارتوں کو آپ نے بلند کرنا ہے۔پس ان دو مقدس مزدوروں کو کبھی دل سے محو نہ کرنا جن کا نام ابراہیم اور اسماعیل تھا اور ہمیشہ یادرکھنا اور اپنی نسلوں کو نصیحتیں کرتے چلے جانا کہ اے خدا کی راہ کے مزدورو! اسی تقویٰ اور سچائی اور خلوص کے ساتھ ، اسی توحید کے ساتھ وابستہ ہو کر اسے اپنے رگ و پے میں سرایت کرتے ہوئے تم اس عظیم الشان تعمیر کے کام کو جاری رکھو گے ایک صدی بھی جاری رکھو گے، اگلی صدی بھی جاری رکھوگے یہانتک کہ یہ عمارت پائیہ تکمیل کو پہنچے گی۔اس عمارت کی تکمیل کا سہرا جس کی بنیاد حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے ڈالی تھی۔جن کے ساتھ ان کے بیٹے اسماعیل نے مزدوری کی تھی خدا کی تقدیر میں ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی ﷺ کے سر پر باندھا جا چکا ہے۔کوئی نہیں ہے جو اس تقدیر کو بدل سکے۔ہم تو مزدور ہیں محمد مصطفیٰ " کے قدموں کے غلام ، آپ کے خاک پاکے غلام ہیں۔پس آپ وفا کے ساتھ کام لیں اور نسلاً بعد نسل اپنی اولاد کو یہ نصیحت کرتے چلے جائیں کہ تم خدا اور رسول کے مزدوروں کی طرح کام کرتے رہو گے ، کرتے رہو گے ، اپنے خون بھی بہاؤ گے اور پسینے بھی بہاؤ گے اور کبھی بھی نیچھکو گے نہ ماندہ ہو گے یہاں تک کہ خدا کی تقدیر اپنے اس وعدے کو پورا کر دے کہ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ (الصف: ۱۰) کہ محمد مصطفی ﷺ کا دین اس لئے دنیا میں بھیجا گیا تھا کہ تمام ادیان پر غالب آجائے اور ایک ہی جھنڈا ہو جو محمد رسول اللہ ﷺ کا جھنڈا ہو اور ایک ہی دین ہو جو خدا اور محمد کا دین ہو اور ایک ہی خدا کی بادشاہت دنیا میں قائم ہو خدا کرے کہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھیں اگر نہ دیکھ سکیں تو ہماری اولا دیں اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور ہمیں یا درکھیں اور اگر وہ بھی نہ دیکھ سکیں تو ان کی اولادیں اپنی آنکھوں سے دیکھیں لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ