خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 70 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 70

خطبات طاہر جلد ۱۰ 10 70 خطبہ جمعہ ۲۵ /جنوری ۱۹۹۱ء گئیں۔آپ کو سمجھایا گیا کہ کیوں اپنی جان کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔آپ کو علم نہیں کہ کتنی کتنی خوفناک طاقتیں آپ کے خلاف اکٹھی ہو گئی ہیں لیکن آپ نے ان کو یہی جواب دیا اور ہمیشہ یہ جواب دیا کہ توحید کی راہ میں میں ہر قربانی کے لئے تیار ہوں یہی میری زندگی کا مقصد ہے۔یہی میرے پیغام کی جان ہے۔یہی میرے مذہب کی روح ہے اس لئے ہر دوسری چیز سے تم مجھے الگ کر سکتے ہو مگر تو حید اور توحید کا پیغام پہنچانے سے الگ نہیں کر سکتے۔آپ نے فرمایا کہ تم کیا کہتے ہو۔خدا کی قسم ! اگر سورج کو میرے دائیں ہاتھ پر لا کر رکھ دو اور چاند کو میرے بائیں ہاتھ پر لا کر رکھ دوتب بھی میں ان کو رد کر دوں گا اور توحید کا دامن کبھی نہیں چھوڑوں گا۔پس مجھے کس بات سے ڈراتے ہیں۔امریکہ کی طاقت ہو یا یہود کی طاقت ہو یا انگریز کی طاقت ہو یا تمام دنیا کی اجتماعی طاقتیں ہوں اگر تو حید کی آواز بلند کرتے ہوئے پارہ پارہ بھی ہو جاؤں تو خدا کی قسم میرے جسم کا ذرہ ذرہ یہ اعلان کرے گا کہ فزت برب الكعبه۔فزت برب الكعبه حوالہ - میں خدائے کعبہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں کامیاب ہو گیا اور یہی وہ آواز ہے جو آج تمام دنیا کے احمدیوں کے دلوں سے اور ان کے جسموں کے ذرے ذرے سے اٹھنی چاہئے۔کیا پروگرام ہیں؟ اور کن طاقتوں پر یہ بھروسہ کئے ہوئے ہیں۔Desert Storm کی باتیں کرتے ہیں یعنی صحراؤں کا ایک طوفان ہے جو دشمن کو ہلاک اور ملیا میٹ کر دے گا۔یہ نہیں جانتے کہ طوفانوں کی باگیں بھی خدا کے ہاتھ میں ہوتی ہیں۔میں نہیں جانتا کہ خدا کی تقدیر کیا فیصلہ کرے گی مگر یہ ضرور جانتا ہوں کہ خدا کی تقدیر جو بھی فیصلہ کرے گی وہ بالآخر متکبروں کو ہلاک کرنے کا موجب بنے گا آج نہیں تو کل یہ تکبر ملیا میٹ کئے جائیں گے کیونکہ وہ بادشاہت جو آسمان پر ہے اسی خدا کی بادشاہت زمین پر ضرور قائم ہو کر رہے گی۔پس آج نہیں تو کل کل نہیں تو پرسوں آپ دیکھیں گے کہ یہ تکبر دنیا سے مٹا دیا جائے گا اور طوفان ان پر الٹائے جائیں گے اور ایسے ایسے خوفناک Storms خدا کی تقدیر ان پر چلائے گی کہ جن کے مقابل پر ان کی تمام اجتماعی طاقتیں بھی ناکام اور پارہ پارہ ہو جائیں گی یہ نظام کہنہ مٹایا جائے گا۔آپ یا درکھیں اور اس بات پر قائم رہیں اور کبھی محونہ ہونے دیں۔یہ اقوام قدیم جن کو آج اقوام متحدہ کہا جاتا ہے ان کے اطوار زندہ رہنے کے نہیں ہیں۔یہ قو میں یادگار بن جائیں گی اور عبرتناک یادگار بن جائیں گی اور ان کے کھنڈرات سے، آپ ہیں۔