خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 732
خطبات طاہر جلد ۱۰ 732 خطبہ جمعہ ۶ ستمبر ۱۹۹۱ء باتیں کرتا ہے اس کو نقصان پہنچا دیتا ہے۔اگر وہ شخص تقویٰ کے اعلیٰ مقام پر نہیں ہے تو اس کی باتیں سن کر آگے متعلقہ عہد یدار کو پہنچانے کی بجائے ، اس کے خلاف رد عمل دکھانے کی بجائے وہ اپنے دل میں بٹھا لیتا ہے اور اس سے ہمدردی شروع کر دیتا ہے۔کہتا ہے ہاں ہاں ! یہ تو تم سے زیادتی ہو گئی اس طرح اس کو ایک اور دوست مل گیا۔پھر اس سے ایک اور منافق دوست بن گیا، پھر اس سے ایک اور منافق دوست بن گیا۔اس طرح بجائے اس کے کہ کسی شکایت کا ازالہ ہو،اس شکایت سے بہت بڑھ کر ایک روحانی بیماری جماعت میں پھیلنے لگ جاتی ہے۔فرض کریں ایک امیر نے کسی کو گالی دے دی۔اگر وہ خدا کی خاطر ا سے برداشت کر لے۔دنیا سے بھی تو گالیاں کھاتا رہتا ہے۔کسی کی عزت کا سوائے خدا کے کوئی محافظ نہیں ہوسکتا۔خدا کی خاطر اگر صبر کر جائے یا جیسا کہ میں نے کہا ہے شکایت کرے تو اس کا حق ہے لیکن جب وہ ارد گرد ماحول سے ہمدردیاں لینے لگتا ہے تو یہیں سے پارٹیوں کا آغاز ہوتا ہے یہیں سے فتنے بنتے ہیں اور بدنصیبی سے ناروے کی جماعت میں بھی اس قسم کے فتنے پیدا ہوتے رہے۔مختلف وقتوں میں میں نے دبایا اور بعد میں مجھے چٹھیاں آجاتی تھیں کہ ہمارا تو ان سے کوئی تعلق نہیں۔ہم اگر ملوث بھی تھے تو معافی مانگتے ہیں لیکن کب تک اس طرح چلے گا۔ایک وقت تھا جب ناروے کی جماعت سے مجھے بڑی محبت تھی ، میں بڑے شوق سے یہاں آیا کرتا تھا ، بہت دن یہاں ٹھہرتا تھا، ملک بھی خوبصورت ہے کبھی مجھے سال سال دو دو سال تک Relaxation کے لئے وقت نہیں ملتا تو میں اس وقت کو بچالیتا تھا کہ ناروے جا کرلوں گا اور چند دن یہاں الگ چلا جایا کرتا تھا لیکن جب سے آپ لوگوں نے یہ حرکتیں شروع کی ہیں میرا اس ملک میں آنے کو دل نہیں چاہتا۔اس طرف دیکھنے کو دل نہیں چاہتا۔یہ لفظ میرے لئے دکھ کا موجب بن گیا ہے، تکلیف کا موجب بن چکا ہے۔کہاں کہاں سے تم لوگ آئے ہو، کس خدا کی خاطر ہجرتیں کی ہیں اور یہاں آکر اس نیک امیر سے یہ سلوک کیا جو بڑا ہی متقی انسان تھا اور جس نے بڑے پیار اور محبت کے ساتھ بہت ہی محنت کر کے جماعت کی ذمہ داریوں کو سنبھالا یہاں تک کہ وہ دل برداشتہ ہو گیا۔اس نے کہا یہ پاکستانی عجیب مخلوق ہیں۔ایسی ایسی حرکتیں کرتے ہیں۔میں تو احمدیت کی وجہ سے ان سے تعلق رکھتا تھا۔اگر یہی احمدیت ہے تو پھر میں نقصان میں ہوں۔ایسا بھی وقت ان پر آیا