خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 731 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 731

خطبات طاہر جلد ۱۰ 731 خطبہ جمعہ ۶ ستمبر ۱۹۹۱ء تحقیق کی جاتی ہے تو بات برعکس نکلتی ہے۔شکایت کنندہ ظالم نکلتا ہے۔اب میں نے اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر فیصلے کرنے ہیں۔شکایت کنندہ کے دل کی حالت کو دیکھ کر تو فیصلے نہیں کرنے جب میں فیصلہ کرتا ہوں تو پھر بعض دفعہ وہ کہہ دیتا ہے۔بعض دفعہ دل میں رکھتا ہوگا کہ لوجی خلیفہ کے پاس بھی انصاف نہیں لیکن میں آپ کو ایک اور بات بتا تا ہوں کہ خلیفہ کوئی ڈکٹر نہیں ہے کیونکہ خلیفہ کے اوپر سب سے زیادہ مقتدر اور طاقتور مستی بیٹھی ہوئی ہے جو ہر وقت اس کی نگرانی کرتی ہے۔حضرت اقدس خلیفہ اسح الاول رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جب یہ لاہوریوں کا فتنہ سر اٹھانے لگا تھا اپنے ایک جلالی خطبے میں یہ فرمایا کہ تمہیں خدا نے باندھ کر میرے تابع کر دیا ہے۔تم عہد بیعت سے مجبور ہو، تمہاری مجال نہیں ہونی چاہئے کہ میرے سامنے بات کرو اور آواز اٹھاؤ لیکن اگر میں غلطی کرتا ہوں اور مجھ سے شکایت ہے تو مجھ سے بالا ہستی جو ساری کائنات میں سب سے بالا ہستی ہے۔اس کے پاس میری شکایت کرو۔اس کو شکایت کرو کہ یہ بڑھا ہمیں یہ تکلیف دے رہا ہے اور فرمایا کہ خدا پھر مجھے اس دنیا سے اٹھالے گا اور مجھے یہاں باقی نہیں رکھے گا کیونکہ اس کی خاطر تم میری اطاعت کر رہے ہو میری خاطر تو نہیں کر رہے۔اس لئے جس خلیفہ کے اوپر ایسا مقتدر خدا بیٹھا ہو، جس کے قبضہ قدرت میں زندگی اور موت ہوا ایسے خلیفہ کے خلاف شکایت تو سب سے بڑے دربار میں ہوتی ہے۔پس یہ نظام خلافت آمریت سے کوئی مشابہت رکھتا ہے اور نہ نظام امارت ہسلسلے کا کوئی عہدہ بھی ایسا نہیں جس میں آمریت کی ذرہ بھی خوبو پائی جائے لیکن احباب جماعت کو تقویٰ سے کام لینا چاہئے۔اس نظام کو خوب اچھی طرح ذہن نشین کرنا چاہئے۔سمجھ لینا چاہئے اور جب خدا تعالیٰ نے یہ سارے رستے رکھے ہوئے ہیں شکایتیں دور کرنے کے ان کو اختیار کیا جائے۔جب بھی ایک شخص اپنی شکایت کو صحیح رستہ پر چلانے کے بچائے دوسرے لوگوں تک پہنچاتا ہے جن کا تعلق نہیں ہے تو اس سے کئی قسم کی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔اول یہ کہ وہ شکایت جب کسی اور بھائی سے کرتا ہے یا بہن سے کرتا ہے تو اپنے دل کا غبار اسی سے نکال لیتا ہے پھر خدا پر اس کا کچھ نہیں رہتا اور یکطرفہ باتیں کرتے ہوئے بسا اوقات جس عہد یدار سے شکایت ہے اس کے خلاف بدتمیزی بھی کرتا ہے ،اس کو گالیاں بھی دے جاتا ہے اور کئی قسم کے ایسے ناجائز فقرے کستا ہے جس کے نتیجے میں وہ مظلوم تھا ظالم بن جاتا ہے۔پھر جس سے