خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 68
خطبات طاہر جلد ۱۰ 68 خطبه جمعه ۲۵ جنوری ۱۹۹۱ء پس یہ وہ صورتحال ہے جو درست اور تقویٰ پر مبنی صورتحال ہے مگر اس کے باوجود کسی مسلمان عالم کو اور کسی مسلمان بادشاہ کو یہ حق نہیں ہے کہ ان لڑائیوں کو اسلامی جہاد قرار دے لیکن مسلمان عوام کو جب جہاد کے نام پر بلایا جائے گا تو اس لئے لبیک کہیں گے کہ وہ دل سے جانتے ہیں اور بار باران کا کردار یہ ثابت کرتا چلا جا رہا ہے کہ ان لڑائیوں کے پس منظر میں اسلام کی دشمنی ضرور موجود ہے۔ پس وہ معصوم جہاں مارے جائیں گے میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا کی رحمت ان سے رحم کا سلوک فرمائے گی اور اگر اسلام کی کامل تعریف کی رو سے وہ شہید قرار نہیں بھی دیئے جاسکتے تو چونکہ اسلام کی دشمنی میں ان سے ظلم : ہے ہوئے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ ان ان سے رحمت اور مغفرت کا سلوک کرے گا۔ لیکن پھر بھی میں اس بات کا اعادہ کرتا ہوں کہ نہ مسلمان علماء کا حق ہے اور نہ مسلمان بادشاہوں کا حق ہے کہ وہ اپنی سیاسی لڑائیوں کو خواہ وہ مظلوم کی لڑائیاں ہوں اسلامی جہاد قرار دیں۔ در اصل آج کل اسلام کی دشمنی جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ظاہر وباہر ہوتی چلی جارہی ہے اور منہ سے کوئی کچھ کہے در حقیقت دل کی آواز مختلف بہانوں کے ساتھ اٹھ ہی جاتی ہے اور زبان پر بھی آہی جاتی ہے اور جہاں تک عمل کا تعلق ہے وہ میں نے بیان کیا ہے کہ ایسی مکروہ عملی تصویریں بنائی جارہی ہیں کہ جو خون کا رنگ رکھتی ہیں اور نفرت کے برش سے بنائی جارہی ہیں اور اسلام کی نفرت کا برش ان کے خدوخال بناتا چلا جا رہا ہے اور کھل کر دنیا کے سامنے وہ تصویر میں ابھرتی چلی جارہی ہیں اس کے نتیجے میں اور جو کچھ بھی ہوا من بہر حال قائم نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ بنیادی اصول کبھی کوئی دنیا میں تبدیل نہیں کر سکا کہ نفرتیں نفرتوں کے بچے پیدا کرتی ہیں۔ اس لئے یہ ابھی سے بیٹھے ہوئے منصوبے بنارہے ہیں کہ کس طرح اس جنگ کے اختتام پر اس خطہ ارض میں جسے مشرق وسطی کا نام دیا جاتا ہے امن کا قیام کریں گے۔ یہ محض خواب و خیال کی جاہلانہ باتیں ہیں۔ جہاں نفرتوں کے بیج اتنے گہرے بودیئے گئے ہوں وہاں سے نفرتیں ہی اُگیں گی ۔ جہاں جنگ کے بیج بو دیئے گئے ہوں وہاں جنگیں ہی اُگیں گی اور یہ ہو نہیں سکتا کہ نفرتوں کے نتیجہ میں محبتیں پیدا ہونی شروع ہو جائیں اور جنگ کے نتیجے میں امن کی فصلیں کاٹنے لگو ۔ پس آج نہیں تو کل یہ دیکھیں گے کہ جو اقدامات یہ آج کر رہے ہیں یہ ہمیشہ کے لئے دنیا کے امن کو تباہ کر رہے ہیں اور جو مجرم ہے خدا اس کو سزا دے گا کیونکہ انسان تو بے اختیار ہے۔