خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 67 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 67

خطبات طاہر جلد ۱۰ 67 خطبہ جمعہ ۲۵ جنوری ۱۹۹۱ء اس لئے دے رہے ہیں کہ اس نے خود اپنے ملک کے باشندوں کو زبردستی غلام بنایا ہوا ہے۔ہم اس کو سزا اس لئے دے رہے ہیں کہ وہ اپنے ملک کے باشندوں پر ظلم اور تشدد کر رہا ہے اور ان کی رہائی کی خاطر ہم صدر صدام کے خلاف ہیں نہ کہ اہل عراق کے خلاف اور سزا کن معصوموں کو دے رہے ہیں جن پر ان کے بیان کے مطابق مسلسل سالہا سال سے صدر صدام تشدد کرتا چلا جارہا ہے اور مظالم توڑتا چلا جارہا ہے ان معصوم عورتوں اور بچوں کا کیا قصور ہے جو تمہارے بیان کے مطابق پہلے ہی مظلوم ہیں جن کی آزادی کے نام پر تم نے جنگ شروع کی ہوئی ہے کہ ان کو اس جرم کی سزا دو جس جرم کا ارتکاب تمہارے نزدیک صدر صدام نے اسرائیل کے خلاف کیا اور ایسی سزا دو کہ یہود کی تاریخ میں بھی ایسے خوفناک انتقام کی مثالیں نہ ملیں۔تمہیں یہ کیا حق ہے کہ عیسائیت کی معصوم تعلیم کو داغدار کرو اور عیسائیت کی تعلیم کو اور عیسائیت کی تاریخ کو بھی اسی طرح انتقام کے ظلم سے خون آلود کر دو جس طرح یہود کی تاریخ ہمیشہ خون آلود رہی ہے۔پس یہ ساری غیر منصفانہ باتیں ہیں عدل کے خلاف باتیں ہیں۔تقویٰ کے خلاف باتیں ہیں جن کے خلاف مسلمان کے دل میں ایک رد عمل ہے اس کے باوجود وہ جن ملکوں میں رہتا ہے اس کا پر امن شہری ہے۔اس کے باوجود کہ وہ اس بات پر آمادہ ہے کہ ملک کا قانون توڑے بغیر صرف ظلم کے خلاف احتجاج کی آواز بلند کرے اس کو غدار قرار دیا جاتا ہے اور اس کے خلاف مہم چلائی جاتی ہے۔یہ کونسا انصاف ہے۔مجھ سے ایک احمدی نے فون پر سوال کیا کہ میراBBC کے ساتھ یا کسی اور ٹیلی ویژن کے ساتھ انٹرویو ہونے والا ہے وہ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ تمہارا کیا رد عمل ہے؟ کیا تبصرہ ہے ان حالات پر ؟ بتائیں میں کیا جواب دوں۔میں نے کہا تم یہ جواب دو کہ جو Tony Ben (ممبر برٹش پارلیمنٹ ) کا تبصرہ ہے میرا بعینہ وہی تبصرہ ہے جب میرے دل کی صحیح آواز وہ منصف مزاج انگریز بلند کر رہا ہے تو مجھے کیا ضرورت ہے اس آواز کو خود بلند کرنے کی کیونکہ جب میں کروں گا تو تم مجھے غدار قرار دو گے۔جب Tony Ben کرے گا تو تم اسے غدار قرار دینے کی جرات نہیں کر سکتے۔پس جو باتیں ہورہی ہیں انصاف کے خلاف ہورہی ہیں ، تقویٰ کے خلاف ہورہی ہیں۔کوئی قانون نہیں ہے، کوئی اصول نہیں ہے، کوئی Higher moral Ground نہیں ہے بلکہ اخلاقی انحطاط میں تحت الثر کی تک پہنچے ہوئے لوگ ہیں۔