خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 69
خطبات طاہر جلد ۱۰ 69 خطبہ جمعہ ۲۵ / جنوری ۱۹۹۱ء جماعت احمدیہ کسی قومی تعصب میں مبتلا ہو کر کسی خیال کا اظہار نہیں کرتی ، نہ تعصب میں مبتلا ہو سکتی ہے کیونکہ ہمارے دل تو حید نے سیدھے کر دیئے ہیں۔کوئی کبھی ان میں نہیں چھوڑی۔ہماری وفا توحید کے ساتھ ہے اور توحید جس کے دل میں جاگزیں ہو جائے اور گڑ جائے اس کے دل میں عصبیتیں جگہ پاہی نہیں سکتیں۔یہ دو چیزیں ایک سینے میں اکٹھی نہیں ہوسکتیں۔توحید تو کل عالم کو اکٹھا کرنے والی طاقت ہے۔تو حید جس سینے میں سما جائے اس میں کوئی عصبیت جگہ نہیں پاسکتی۔یہ ایک بنیادی غیر مبدل قانون ہے۔اسی لئے میں جماعت احمدیہ کی طرف سے یہ اعلان کرتا ہوں کہ ہمارے تبصروں میں خواہ کیسی ہی تلخی ہو وہ حق پر مبنی تبصرے ہوں گے اور آج نہیں تو کل دنیا ہماری تائید کرے گی کہ ہاں تم نے حق کی صدا بلند کی تھی اور اس میں کوئی تعصب کا شائبہ تک باقی نہیں تھا۔لیکن اس کے علاوہ بھی بعض باتیں ہیں جن کی وجہ سے طبیعتوں پر سخت انقباض بھی ہے اور بے قراری پائی جاتی ہے۔وہ ان کا متکبرانہ رویہ ہے۔خاص طور پر امریکہ کے صدر جب بات کرتے ہیں عراق کے متعلق یا دوسری ان قوموں کے متعلق جو ان سے تعاون نہ کر رہی ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے دنیا میں ایک خدا اتر آیا ہے اور خدا بات کر رہا ہے اور جو موحد ہو وہ تکبر کے سامنے سر جھکا ہی نہیں سکتا۔شرک کی مختلف قسمیں ہیں لیکن سب سے زیادہ مکروہ اور قابل نفرت شکل تکبر ہے۔پس تکبر کے خلاف آواز بلند کرنا موحد کا اولین فریضہ ہے اور جماعت احمد یہ دنیا کے موحدین میں صف اول کی موحد جماعت ہے بلکہ توحید کی علمبردار جماعت ہے تو حید کا جھنڈا آج جماعت احمدیہ کے ہاتھوں میں تھمایا گیا ہے اس لئے ہم ہر شرک کے خلاف آواز بلند کریں گے۔ہر تکبر کے خلاف آواز بلند کریں گے اور دنیا کا کوئی خوف ہماری اس آواز کا گلا نہیں گھونٹ سکتا کیونکہ وہ مصنوعی خدا جو دنیا کی تقدیر پر قابض ہونے کی کوشش کرتے ہیں ان کے سامنے سر جھکانا اور موحد ہونا بیک وقت ممکن ہی نہیں۔جب میں ایسے تبصرے کرتا ہوں تو بعض احمدی مجھے لکھتے ہیں، ہیں ہیں! ہمیں آپ کی فکر پیدا ہوتی ہے آپ کیوں ایسی باتیں کرتے ہیں۔میں ان کو یاد دلاتا ہوں کہ میں اس لئے ایسی باتیں کرتا ہوں کہ میرے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم بھی ایسی ہی باتیں کیا کرتے تھے۔جب آپ نے توحید کے حق میں آواز بلند کی تو مکہ کیا تمام دنیا نے آپ کی مخالف تھی۔آپ کی منتیں کی