خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 678
خطبات طاہر جلد ۱۰ 678 خطبه جمعه ۶ اراگست ۱۹۹۱ء میں جماعت کو متنبہ کرتا ہوں اس قسم کی عادتوں کو روکنے میں مدد کریں اور محبت اور پیار اور ادب سے بے شک کہیں لیکن سچی بات کہنے سے شرم نہیں کرنی چاہئے۔ان کو کہنا چاہئے کہ دیکھو تمہیں کوئی ضرورت نہیں ہے تم ایسی حرکتیں نہ کرو۔تجارت کرنی ہے تو تاجروں کے پاس جاؤ بڑے بڑے سٹوروں کے پاس جاؤ اور ان سے سودے کرو۔گورنمنٹ کے بل دو اور اس کے بعد جو منافع ہے وہ خیر و برکت سے کماؤ۔اس میں سے پھر تمہیں چندوں کی بھی توفیق ملے گی لیکن ایسے کمانے والوں کی تو چندوں کی توفیق بھی میں نے کبھی نہیں دیکھی۔بہر حال مجھے تو جماعت یو کے (U۔K) کی اس بزرگ خاتون کی کہانی سن کر اتنی تکلیف ہوئی کہ دل اس وقت سے بے چین ہے۔اتنا ظلم ہے کہ ایک بزرگ خاتون جو اس قدر محبت اور ایثار سے خدمت کرتی ہے اور کوئی حیا نہیں ہے اور ان کے لئے ایک عذاب بن گئے ہیں ان کو تو ڈاکٹر نے کہا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو وہ آرام سے رہیں کوئی بوجھ نہ پڑے کوئی تکلیف نہ ہولیکن بار بار دروازے کھٹک رہے ہیں اور وہ اٹھ کر پوچھتی ہیں کہ کیا بات ہے؟ پتہ نہیں کیا پیغام آیا ہے؟ تو پتہ چلتا ہے کہ جی آپ کے ہاں ایک کپڑے بیچنے والی خاتون رہتی ہیں۔تو میری نصیحت یہی ہے کہ آپ نے آئندہ اگر تجارتیں کرنی ہوں تو تجارت کے اصولوں پر کریں اور اس طرح ملا جلا کر اپنے اور خاندانوں کی بدنامیوں کا موجب نہ بنیں اور اپنی اولاد کے لئے گندے بیج نہ بوئیں کیونکہ اس سے آپ لوگ آئندہ بہت نقصان اٹھائیں گے۔آپ کو دل کا سکون نہیں ملے گا۔میں جانتا ہوں کہ وہ تو ابھی بھی کم ہوتا جارہا ہے لیکن یہ سکون اور بھاگے گا۔اس قسم کی دولتیں کبھی بھی دل کا سکون نہیں بخشا کرتیں۔دل کا سکون تقویٰ سے ملتا ہے۔اپنی نیتوں کو پاک صاف کریں کبھی صاف نیت لے کر جلسہ پر آنے کی کوشش تو کریں پھر دیکھیں خدا کیسے کیسے فضل نازل فرماتا ہے۔اس نیت سے آئیں اور اخلاق کا مظاہرہ کریں۔نیک نیتیں لے کر آئیں اور نیک اثر پیچھے چھوڑ کر جائیں اور نیک دعائیں لیں جو ساری عمر آپ کی زندگی کا خزانہ بنی رہیں گی۔پس میں امید رکھتا ہوں کہ آئندہ ان قباحتوں سے احتراز کیا جائے گا اور جماعت نے چونکہ اب میری بات سن لی ہے اس لئے اس بات پر نگران ہو جائے گی۔ان سے ویسے جتنے چاہیں تعلقات رکھیں ان لوگوں کا جو ادب کرنا ہے کریں لیکن ان کاموں میں اب ان سے تعاون نہیں کرنا کیونکہ یہ ان کے لئے بھی مضر ہے اور ان کے لئے بھی نقصان دہ ہے۔