خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 677 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 677

خطبات طاہر جلد ۱۰ 677 خطبه جمعه ۶ اراگست ۱۹۹۱ء نہیں مگر ہم یہاں پریشان کہ وہ دوا پہنچ نہیں رہی۔آخر ساری رات سفر کر کے بمشکل دوسرے دن وہ پہنچا ، پھر وہ نیند سے مغلوب ہو گیا تو پھر کہیں رات کو جا کر وہ دوا ملی۔اب ایک شخص کی نیت کہیں سے چلی تھی۔میں یہ بتا رہا ہوں کہ منتیں کس طرح اپنے بداثرات پھیلاتی رہتی ہیں۔وہ نیت یہ تھی کہ براہ راست کپڑا امریکہ نہیں جاسکتا تو جو لوگ کینیڈا جارہے ہیں ان کے ذریعہ ہم تجارتی کپڑے بھیج دیں اور اس نیت نے آگے یہ فتور پیدا کر دیا ہے کہ کسی اور نیت سے بے چارا ایک نوجوان اخلاص کے ساتھ اس خاطر چلا ہے کہ کوئی مریض ہے اس کو جلد دوا پہنچے لیکن اس کا سارا سفر برباد کر دیا گیا اور یہ اس بد نیتی کا پھل تھا۔جہاں تک تجارتوں کا تعلق ہے میں تو خود احمدیوں کو کہتا ہوں کہ تجارتیں کریں لیکن ایک نصیحت کرتا ہوں کہ جو خاوند اچھے بھلے کھاتے پیتے اور امیر ہوں وہ اپنی بیویوں کو اگر تجارتوں میں ڈالیں گے تو اس کا نقصان پہنچے گا۔ان کی مرضی ہے جو چاہیں فیصلے کریں لیکن ایسی بیویوں کو جن کو تجارتوں کی چھٹیاں دے دی گئی ہوں ان کو اور بھی بہت سی ایسی عادتیں پڑ جاتی ہیں جس کے نتیجے میں گھر کی طرف پوری توجہ نہیں رہتی ، اولاد کی طرف پوری توجہ نہیں رہتی۔کچھ نقصانات فوری نظر آتے ہیں کچھ دیر کے بعد نظر آتے ہیں، کچھ دکھائی نہیں دیتے لیکن اگلی نسلوں میں ظاہر ہوتے ہیں۔میں تو ایک پاک نصیحت کر سکتا ہوں کہ آپ لوگوں کا حق ہے۔دونوں نے تجارتیں کرنی ہیں تو بے شک کریں لیکن جن کو خدا نے کھلی توفیق دی ہو ان کو اپنی بیویوں کو اس بات پر شتہ نہیں دینی چاہئے یا ان کی عادت سے آنکھیں نہیں بند کرنی چاہئیں یا بعض اوقات اگر رو کنا ضروری ہو تو روک دینا چاہئے کہ وہ بے وجہ زائد روپے کی حرص میں ایسے کام کرتی پھریں جس سے گھر کا امن برباد ہوتا ہولیکن یہ تو ایک نفلی مشورہ ہے۔دوسرا مشورہ جو ہے وہ زیادہ اہمیت رکھتا ہے اور وہ یہ ہے کہ جماعت کو اس میں ملوث نہ کریں۔اس قسم کے نفلی کام یعنی آپ کے نفل ہیں خدا کے ہاں تو وہ نفل نہیں ہیں لیکن آپ نے نفلی روپیہ کمانا ہے ، حرص پوری ہی نہیں ہو رہی تو نہ ہو بے شک لیکن پھر تجارت کے اصولوں پر کام۔کریں کپڑا ایکسپورٹ Export کرنے کے جو باقاعدہ طریقے ہوتے ہیں وہ اختیار کریں۔دکانوں تک سامان پہنچا ئیں ، ان سے آرڈرز لیں، ان دکانوں سے کوئی احمدی خریدتا ہے تو شوق سے خریدے لیکن یہ کوئی حق نہیں ہے کہ جماعت سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی حرصیں پوری کرتے پھریں۔اس لئے