خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 679
خطبات طاہر جلد ۱۰ 679 خطبہ جمعہ ۶اراگست ۱۹۹۱ء جہاں تک دوسرے معاملات میں نیتوں کے فتور اور ان کے بداثرات کا تعلق ہے ان کے متعلق چونکہ مضمون بدلنا ہے اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ آج کے خطبہ کی بجائے آئندہ خطبہ یا پھر اس کے بعد آئندہ کسی خطبہ میں میں اس کا ذکر کروں گا میرا خیال یہی ہے کہ جس طرح آج ایک موضوع کو لیا ہے اور اس کے بعض حصوں پر یہ امر چسپاں کر کے آپ کو دکھایا ہے کہ کس طرح نیت کا فتور معاشرے کو گندا کر دیتا ہے اور مصیبتیں دنیا پر ڈال دیتا ہے اسی طرح زندگی کے ہر شعبے کا نیتوں کے ساتھ گہراتعلق ہے۔پس دو ہی چیزیں ہیں۔ایک وہ جڑ جو تقویٰ پر بنی ہوتی ہے وہ بھی نیت سے اٹھتی ہے اور ایک وہ شجرہ خبیثہ جس کی جڑ برائی میں پیوستہ ہوتی ہے اگر چہ وہ اکھڑی پھرتی ہے اور اڑتی پھرتی ہے اور کئی قسم کے نئے نئے پودے اس کی جگہ آ لگتے ہیں اور وہ بھی اکھڑ جاتے ہیں لیکن اس مضمون کو اس پہلو سے دیکھنا ضروری ہے کہ جڑ بہر حال فساد کے اندر ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں گندے پودے گندے پھل لے کر آتے ہیں ان سے اپنے آپ کو بچانا چاہئے۔آخر پر میں یہ ایک اصولی نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ اس مضمون کا استغفار سے بہت گہرا تعلق ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے استغفار کے مضمون پر بہت ہی عظیم الشان مضامین بیان فرمائے ہیں اور بہت ہی گہری نظر سے استغفار کے ہر پہلو کا تجزیہ فرمایا ہے۔استغفار کا مطلب ہے مٹی سے ڈھانپنا غفر کا مطلب ہوتا ہے ڈھانپ دیا۔خدا تعالیٰ مغفرت فرماتا ہے اورانسان مغفرت طلب کرتا ہے استغفار کا معنی ہے : کوشش کرنا کہ میں ڈھانپا جاؤں۔ننگا وجود ہو تو اس کو کپڑے سے ڈھانپا یہ استغفار ہے جڑننگی ہو رہی ہو تو اس کو مٹی سے ڈھانپنا یہ استغفار ہے۔جس مضمون سے میں نے آج کے خطبہ کا آغاز کیا تھا اس پر واپس آتے ہوئے میں آپ کو بتا تا ہوں کہ استغفار دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ استغفار ہے جو جڑوں کو ڈھانپنے والا ہے لیکن ایک استغفار ہے جو جڑوں کو چھپانے والا ہے۔میں نے دو لفظ ڈھانپنا اور چھپانا عمداً استعمال کئے ہیں چھپانے سے مراد یہ ہے کہ بد جڑیں ہیں، گندی جڑیں ہیں اور آپ ان کو چھپاتے ہیں۔یہ استغفار کے منفی معنی ہیں۔اور ایک استغفار ڈھانپنے والا ہے جو شخص متقی ہو وہ بسا اوقات اپنی نیک نیتوں کو ڈھانپتا ہے اور دنیا کی نظر سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ہیں تو یہ دونوں قسم کے استغفار لیکن ان کے نتائج میں