خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 672
خطبات طاہر جلد ۱۰ 672 خطبه جمعه ۶ اراگست ۱۹۹۱ء ہیں، ایسی خوشی پھوٹتی تھی اور مجھ سے انہوں نے کچھ دیر باتیں کیں میں نے کہا کہ کس طرح تشریف لائیں تو انہوں نے بتایا کہ اس طرح کہ گو حالات اچھے ہیں، گزارا چلتا ہے لیکن سفر کے لئے پیسے جوڑنے پڑے ہیں اور سارا سال میں اس طرح بچت کرتی رہی اور خدا کے فضل سے مجھے پھر تو فیق ملی ہے اور اس کے بعد انہوں نے کہا کہ اجازت ہو تو میں بیگم صاحبہ کو بھی ایک نظر دیکھ لوں۔حالانکہ دل کے اپریشن کی وجہ سے ڈاکٹر نے منع کیا ہوا ہے کہ زیادہ ملاقاتیں نہیں کروا ئیں سوائے اس کے کہ گھر والے یا بہت بے تکلف دوست ہوں جن سے طبیعت پر بوجھ نہ پڑے لیکن ان کے لئے میرے دل میں اتنا احترام تھا کہ الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتا۔میں خود ان کو ساتھ لے کر اوپر گیا اور اوپر جا کر ان کا تعارف کروایا تو تقویٰ اپنے الگ رنگ رکھتا ہے۔اس کے اندر ایک ایسی قوت ہے کہ جو دلوں کو مغلوب کر لیتی ہے اس میں خدا کی سچائی بول رہی ہوتی ہے۔پس تقویٰ وہی ہے جو انسانی زندگی میں ایک انقلاب برپا کر دے اور اس کا آغاز نیتوں سے ہوتا ہے نیت صاف ہوگی تو جو پودا بھی اس سے نکلے گا صحت مند نکلے گا۔جتنا وہ نشو ونما پائے گا اتنا خدا کے قریب تر ہوتا چلا جائے گا اس کی شاخیں زمین کی طرف بدنیت سے نہیں جھکا کرتیں بلکہ آسمان کی طرف اٹھتی ہیں اور جب الہی پھلوں سے لد جاتی ہیں تب زمین کے فائدے کے لئے اس کی طرف جھکتی ہیں۔جو بد نیتوں کے پودے ہیں ان کی شاخیں بھی بعض دفعہ زمین کی طرف جھکتی ہیں مگر پھل دینے کے لئے نہیں بلکہ زمین کا رس چوسنے کے لئے اور وہ بار بار جھکتی ہیں اور بار بارنٹی جڑیں پیدا کرتی ہیں۔پس نیتوں کا معاملہ ایک بہت ہی گہرا معاملہ ہے۔اس زندگی سے ہی اس کا تعلق نہیں آئندہ زندگی سے بھی تعلق ہے۔آج کی نسلوں کی زندگی سے ہی نہیں کثیر تعداد میں آئندہ پیدا ہونے والی نسلوں کے ساتھ بھی آپ کے تقویٰ کا تعلق ہے، آپ کی نیتوں کا تعلق ہے پس اپنی نیتوں کو جس حد تک بھی سیدھا کریں اتناہی اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ آپ کے حالات درست ہوتے چلے جائیں گے اور آپ کی اصلاح کے امکانات پیدا ہوتے چلے جائیں گے۔قول سدید کے بغیر اصلاح ممکن نہیں ہے اور قول سدید جیسا کہ میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا اس چیز کا نام ہے کہ انسان اپنے دل کے حالات سے واقف ہو کر وہی بات کرے جو واقعہ دل میں ہے اس سے زائد بات نہ کرے اور کچی بات کرے خواہ اس کا نقصان پہنچتا ہو۔بل دے کر اور فریب کے ساتھ بات نہ کرے۔ایسی عورتیں