خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 671 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 671

خطبات طاہر جلد ۱۰ 671 خطبه جمعه ۶ ار اگست ۱۹۹۱ء بھی شوق پیدا ہوا کہ اس جلسے میں بھی شامل ہو جائیں گے یہ ایک سچائی کی بات ہے اس کے نتیجے میں ان کوئی نقصان نہیں ہے۔اس کے نتیجے میں میری ان سے محبت کم ہونے کی بجائے بڑھے گی لیکن جب بات الٹ کر کے پیش کرتے ہیں کہتے ہیں کہ ہم آپ کا منہ دیکھنے آئے۔جلسے کے ترسے ہوئے آئے ہیں اور دل میں ان کی نیت ان کو بتا رہی ہوتی ہے خواہ وہ اس آواز کو سنیں یا نہ سنیں کہ نہیں تم دراصل کسی اور غرض سے آئے ہو تو اس طرح وہ اپنا ثواب بھی گنوا دیتے ہیں۔ایک ہی بات کو مختلف طریق سے بیان کرنے کے نتیجے میں بھی ثواب یا اس کی بجائے بعض دفعہ سزا مترتب ہو جاتی ہے۔اصل تقویٰ ہے جو نیکی کی جڑ ہے اور تقویٰ کی بات کو ہمیشہ میٹھے پھل لگتے ہیں تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے آپ سے صاف گور ہے۔اپنے اندر کی روشنی سے اپنی نیتوں کے آخری کناروں تک نظر رکھتا ہو، اپنی نیتوں کی جڑوں کو پہچانتا ہو، یہی تقویٰ ہے اور اس کے نتیجے میں جب وہ سچ بولے گا، صاف بات کرے گا تو اس سے تعلق بڑھے گا نہ کہ کم ہوگا۔اس کے برعکس بہت سے ایسے احمدی وہاں سے تشریف لاتے ہیں جن کی نیت خالص جلسے میں شرکت کی ہے یا ایک مدت سے خلیفہ وقت کو نہیں دیکھا ہوتا اور یہ تڑپ لے کر آتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم نظر ڈال لیں۔ان کی کیفیت ہی اور ہوتی ہے، ان کے چہرے کی آن بان ہی مختلف ہوتی ہے ، ان کی آنکھوں کے پیغام مختلف ہوتے ہیں۔بعض دفعہ انسان ایسے انسانوں سے اتنا متاثر ہوتا ہے کہ دل کے اندر ایک قیامت برپا ہو جاتی ہے ایسی کئی عورتیں ہر جلسے پر آتی ہیں جنہوں نے کبھی اپنے گاؤں سے کسی دوسرے شہر کا بھی سفر نہیں کیا ہوتا ، نہ ان کو شوق ہوتا ہے۔ساری عمر کراچی نہیں دیکھا، لاہور نہیں دیکھا اور بڑے بڑے بعض شہر ہیں کبھی خیال ہی نہیں آیا بلکہ اپنے گاؤں کو چھوڑنے کو مصیبت سمجھتی ہیں لیکن پیسے جوڑ جوڑ کر دور دراز کے علاقوں سے وہ آتی ہیں۔بعض دفعہ وہ ایک سال نہیں کئی کئی سال تک پیسے جوڑتی رہتی ہیں تا کہ کسی طرح جلسے پر چلی جائیں اور خود بالمشافہ اپنے امام کو دیکھیں اور اس کی گفتگو سنیں اور جب ان سے پوچھتا ہوں کہ بی بی اب کیا خیال ہے؟ تو کہتی ہیں کہ جی ! اب واپسی ، جو ہم نے کرنا تھا کر لیا، جو تمنا تھی وہ پوری ہوگئی۔اب ہم واپس جارہی ہیں۔ایک ایسی ہی خاتون آئیں جن کے چہرے سے نور برستا تھا اور وہ سچائی کا نور تھا۔غریب سادہ طبیعت کی خاتون اور دیکھ کر یوں جس طرح پھول کھل جاتا ہے اس طرح ان کی فطرت کھل اٹھی اور چہرے بھرے سے وہ خوشی ظاہر ہو رہی تھی جو امیدیں پوری ہونے پر پیدا ہوتی