خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 673
خطبات طاہر جلد ۱۰ 673 خطبہ جمعہ ۶ اراگست ۱۹۹۱ء جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے دیکھیں کہ جو بڑی غربت میں اس طرح جلسے کے شوق میں آئیں کہ مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے دین اور دنیا دونوں سنوار دے گا ان کی نسلوں پر رحمتیں نازل فرمائے گا۔ایسے مرد بھی دیکھے جو غریب محنت کش ہیں، جن کے متعلق خیال پیدا ہوتا ہے کہ یہ تو ضرور کہیں باہر نکلنے کے لئے آئے ہوں گے لیکن جب ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ جی بس ! ہماری نیت پوری ہوگئی۔ہمیں کہاں یہاں آنے کی توفیق ملی تھی، حسرتیں پال رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اچانک یہ انتظام فرما دیا اور ہم خدا کے فضل کے ساتھ اب دیکھ چکے۔اب واپس اپنے اپنے کاموں پر جائیں گے۔دل بے اختیار ان کی محبت میں اچھلنے لگتا ہے۔نظر ان پر دعا بن کے نچھاور ہوتی ہے اور حیرت سے آدمی دیکھتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کیسے کیسے متقی اور پاکباز لوگ پیدا کر دیئے ہیں ،جن کی دنیا میں اور کوئی مثال دکھائی نہیں دیتی۔اور اس کے برعکس بعض اچھے بھلے کھاتے پیتے گھروں کی عورتیں ہیں جو کپڑوں کی گٹھریاں اٹھا کے لے کر آتی ہیں اور نام جلسے کا اور نیت کپڑے بیچنے کی وہ انگلستان کی بے چاری عورتوں کی مہمان ٹھہرتی ہیں جو کہ بڑے اخلاص کے ساتھ ان کی آؤ بھگت کرتی ہیں۔جلسے کے چند ایام میں ٹھہرنا تو ہر ایک کا حق ہے اور یہاں کی جماعت اس کو سعادت سمجھتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ نہایت ہی انکسار اور ایثار کے ساتھ یہ حقوق ادا کر رہی ہے اور بشاشت کے ساتھ یہ حقوق ادا کر رہی ہے مگر آپ اندازہ کریں کہ جب جلسہ پر آنے والے کچھ مہمان آکر اپنی گٹھریاں کھولتے ہیں تو ان سے بے شمار پاکستانی کپڑے نکلتے ہیں جو بیچنے کی نیت کے ساتھ آئی ہوتی ہیں۔مجھے جب کچھ عرصہ پہلے یہ علم ہوا کہ ہمارے لجنہ کے جو مختلف فنکشنز (Functions) ہیں، لجنہ کی مختلف تقاریب ہیں ان میں بھی کپڑوں کی دکانیں لگ گئی ہیں تو مجھے اس کی بہت تکلیف ہوئی میں نے کہا کہ یہ کیا قصہ ہے تو انہوں نے کہا جی ! ہم کیا کریں۔پاکستان سے فلاں فلاں خواتین نے یہ کپڑے بھیجے ہیں کہ ہمارے کپڑے بکوا دو اور ان کے ساتھ ہماری بعض خواتین کے منہ ملاحظے ہیں چنانچہ وہ بے چاریاں دکانیں لگا کر بیٹھ جاتی ہیں۔پھر جب مزید اس بات کو کریدا تو پتہ لگا کہ جلسہ سالانہ پر بھی یہی قصہ چل رہا تھا۔اور کئی سال سے یہ ہو رہا ہے اور بہت سی خواتین جو پاکستان سے آتی ہیں وہ جلسہ سننے کی بجائے میری تقریر کے دوران بھی کپڑے بیچ رہی ہوتی ہیں اور دوسرے سننے والوں کا بھی جلسہ خراب کرتی ہیں۔