خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 669
خطبات طاہر جلد ۱۰ 669 خطبه جمعه ۶ اراگست ۱۹۹۱ء برباد کرتے ہیں لیکن یہ نیتوں کے فتور ہیں جنہوں نے نہ صرف بعض خاندانوں کے لئے اس دنیا میں جہنم پیدا کی بلکہ آگے نسلیں تباہ کر دیتے ہیں۔ایسے تعلقات جو اس طرح بگڑے رہیں ان کے ہاں پاکیزہ نسلیں نہیں پیدا ہوسکتیں۔جہاں خاوند اور بیوی کے درمیان ہر روز کی بک بک جھک جھک رہے، لڑائیاں ہو رہی ہوں اور ایک دوسرے کو طعنے دیئے جارہے ہوں، جہاں ساسیں اور نندیں وغیرہ بھی اس لڑائی کی آگ میں پتے جھونک رہی ہوں وہاں اولا دکس طرح امن کی زندگی کا منہ دیکھ سکتی ہے۔وہاں کی اولاد کس طرح شر سے بچ سکتی ہے۔لازماً ان کی طبیعتوں پر بہت گہرے اثر مترتب ہوتے ہیں اور خواہ وہ ایک طرف کے ہوں یا دوسری طرف کے ہوں دین کی طرف کے بہر حال نہیں رہتے اور ایک نسل کی نسل کے لئے آئندہ جہنم کے سامان کئے جاتے ہیں۔ایسے لوگوں میں سے جن تک میری یہ آواز پہنچے ان کو چاہئے کہ وہ آئندہ مجھے لکھنے کی بھی جرات نہ کریں کہ ہمیں فلاں نیت سے رشتہ ڈھونڈ دیں جہاں چاہیں جائیں ، سراٹھا کر پھریں میرا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے جماعت کے نظام کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔اپنی بدنیتوں کو پورا کرنے کے لئے دنیا میں پھریں جہاں چاہیں جو چاہیں تلاش کریں لیکن اگر جماعت سے فائدہ اٹھانا ہے تو جماعت تقویٰ کی بناء پر آپ سے تعاون کرے گی اور تقویٰ کی حد تک آپ سے تعاون کرے گی اس سے زیادہ نہیں۔نیتوں کے فتور کی بہت سی مثالیں ہیں۔میں سوچ رہا ہوں کہ روز مرہ کی انسانی زندگی پر جس طرح رشتوں کے متعلق میں نے بعض مثالیں دی ہیں ان مثالوں کو چسپاں کر کے اس مضمون کو زیادہ کھولتا رہوں آئندہ ایک یا دو خطبات میں انشاء اللہ اسی موضوع پر آپ سے خطاب کروں گا۔اب میں جلسے سے تعلق رکھنے والی بعض باتیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔جلسہ سالانہ یو۔کے ایک مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے دنیا کے مختلف ممالک سے بکثرت لوگ اس لئے یہاں حاضر ہوتے ہیں کہ یہ وہ جلسہ ہے جس میں خلیفہ وقت شریک ہوتا ہے اور اس پہلو سے اسے ایک مرکزیت مل گئی ہے۔باوجود اس کے کہ یہ جلسہ یو۔کے کا جلسہ کہلاتا ہے اور یو۔کے کی جماعت ہی زیادہ تر اس کا بوجھ اٹھاتی ہے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ اس کی دوسری حیثیت نظر انداز نہیں ہو سکتی۔عارضی طور پر بھی جب میں کسی جگہ جا تا ہوں ،امریکہ ہو یا کینیڈایا جرمنی یا کوئی اور ملک تو وہاں اچانک جمعوں کی حاضری بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔عام اجلاسوں کی حاضری بڑھ