خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 668
خطبات طاہر جلد ۱۰ 668 خطبه جمعه ۶ اراگست ۱۹۹۱ء باہر کی دنیا میں نیشنلٹی مل جائے اب ایسی شادیاں لاز منافقتوں پر منتج ہوتی ہیں اور بہت سے ایسے رشتے جو ٹوٹتے ہیں وہ اسی وجہ سے ٹوٹتے ہیں۔ان باتوں کا یہاں تک بداثر ہے کہ انگلستان میں اگر کسی اچھی بچی کو پاکستان کے کسی اچھے لڑکے کا پیغام پہنچ تو وہ گھرا کر انکار کرتی ہے کہ اس کی نیت کہیں نیشنلٹی لینے کی نہ ہو۔کئی دفعہ مجھے سمجھانا پڑتا ہے کہ دیکھو وہ لڑکا بڑا نیک اور سعید فطرت ہے اس کی نیت نیشنلٹی کی نہیں لیکن اگر اسے مل جائے تو بڑی اچھی بات ہے یہاں کی جماعت کو بھی تقویت ملے گی لیکن لڑکا فی ذاتہ اچھا نہ ہوتا تو میں تمہیں رشتے کے لئے نہ کہتا لیکن طبیعتیں بہت گھبراتی ہیں کیونکہ ایک لمبا تلخ تجربہ اس بات کا ہو چکا ہے۔چنانچہ ابھی کچھ عرصہ پہلے مجھے پاکستان سے ایک خط آیا کہ میرے بیٹے کے لئے امریکہ میں کوئی رشتہ ڈھونڈ دیں۔میں نے ان کو کہا کہ امریکہ میں تو نہیں مگر بعض اور جگہ بڑے اچھے رشتے ہیں وہ میں آپ کو بتاتا ہوں۔اس کا جواب آیا کہ جی رشتے تو بتا دیں گے مگر نیشنلٹی کیسے ملے گی میں نے کہا کہ پھر نیشنلٹی آپ تلاش کریں۔میرا کام نہیں ہے کہ میں آپ کو نیشنیلٹیاں ڈھونڈ ڈھونڈ کر دوں۔میں تو تقویٰ کی بناء پر اچھے رشتے تجویز کر سکتا ہوں جو میرے نزدیک ایسے ہوں کہ دونوں خاندانوں کے لئے دین اور دنیا میں برکتوں کا موجب بنیں۔نیشنلٹیاں ڈھونڈنی ہیں تو آپ ڈھونڈیں۔پھر اسی قسم کے بعض خطوط ملتے ہیں کہ فلاں لڑکی ہو جو کمانے والی ہو۔ہمارا بیٹا ڈاکٹر ہے لیڈی ڈاکٹر چاہئے اور لیڈی ڈاکٹر بھی ایسی جو ساتھ مل کر کمائی کرے۔بعض استانیاں ڈھونڈتے ہیں حالانکہ ان غریبوں کی ساری عمر اپنے غریب بہن بھائیوں کا پیٹ پالنے کے لئے ایک مصیبت اور مشقت کی زندگی میں صرف ہو رہی ہوتی ہے۔وہ بے چاریاں محنتیں کرتی ہیں، پڑھاتی ہیں لیکن میدان کو تا کتے ہیں کہ وہ آئیں اور ہمارے گھر آکر اپنی محنتوں کی کمائی ہمیں کھلائیں۔ایسے بدنیت لوگ کبھی دنیا میں چین نہیں پاسکتے۔جو ایسی شادیاں ہو چکی ہیں وہ اکثر گھروں کو جہنم بنادیتی ہیں۔بعض بیچاری بیٹیوں کے مجھے خط آتے ہیں کہ ہمیں کمانے سے کوئی عار نہیں ہے لیکن ہمیں علم نہیں تھا کہ ہماری کمائی کی خاطر ہم سے شادی کی گئی ہے اور اب جب ہم کماتی ہیں تو دل چاہتا ہے کہ اپنے غریب بہن بھائیوں کو بھی کچھ کھلائیں اور حصہ رسدی دونوں کو فائدہ پہنچائیں مگر ہر وقت ساس کی طرف سے یا خاوند کی طرف سے یا نندوں کی طرف سے طعنے ملتے ہیں کہ یہ تو کما کما کر اپنے گھر بھیج رہی ہے۔اگر کمانے والی چیز چاہئے تھی تو کسی کمانے والے جانور سے شادی کر لیں۔انسانوں کی زندگیان کیوں