خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 670 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 670

خطبات طاہر جلد ۱۰ 670 خطبہ جمعہ ۶اراگست ۱۹۹۱ء جاتی ہے دور دور سے احمدی اپنی محبت اور جوش اور ولولے کے ساتھ وہاں حاضر ہوتے ہیں لیکن ان سب جگہوں میں مجھے سب آنے والے صاف نیت دکھائی دیتے ہیں۔ان میں کوئی فتور نظر نہیں آتا کیونکہ جو شخص مصیبت اٹھا کر بہت سے خرچ کر کے بہت دور دور سے آتا ہے اور دنیا کا کوئی فائدہ اس کے پیش نظر نہیں ہوتا تو اس کی نیت پر حملہ کرنے کا کسی کو کوئی حق نہیں اور ایسے لوگ ہیں جو دین و دنیا میں ہرلحاظ سے خدا کی نظر میں مقبول ٹھہرتے ہیں اور اپنی نیتوں کا فیض پاتے ہیں لیکن یو کے (U۔K) کے جلسے کے متعلق میں یہ نہیں کہہ سکتا کیونکہ میں نے جو مشاہدہ کیا ہے اس کی رو سے کئی قسم کے لوگ یہاں آتے دیکھتے ہیں جو کہتے تو یہ ہیں کہ ہم آپ کا منہ دیکھنے آئے ہیں یا جلسہ دیکھنے کے لئے آئے ہیں اور بڑے جوش اور شوق سے آئے ہیں لیکن جب بات کو مز ید کریدا جاتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ ان کی اصل نیست کسی اور ملک میں ہجرت کی ہوتی ہے۔جہاں تک پاکستان کے حالات کا تعلق ہے اس سلسلہ میں میں ہرگز کسی کو متہم نہیں کرتا وہاں اتنے درد ناک حالات ہیں کہ اگر سارے پاکستانی احمدی بھی اپنے دین کی حمیت کی خاطر روزمرہ کی زندگی میں ظلم و ستم سے بچنے کے لئے اور دین کے معاملے میں ہر روز طعن و تشنیع کا نشانہ بننے سے بچنے کی خاطر اگر ملک چھوڑ دیں تو ان پر کوئی حرف نہیں۔کسی پہلو سے بھی ان کو مطعون نہیں کیا جا سکتا لیکن نیتوں کو آپس میں ملا دینا یہ قول سدید کے خلاف ہے اور اگر قول سدید نہ رہے تو اصلاح نہیں ہوسکتی۔اس لئے مجھے فکر لاحق ہوتی ہے وہ لوگ جو یہ نیت لے کر چلتے ہیں کہ ہم نے کہیں Asylum حاصل کرنا ہے ان کو اپنے آپ کو صاف صاف دیکھنا چاہئے۔وہ خود اپنی نظر سے اپنی نیت کی جڑ چھپانے کی کوشش کرتے ہیں، اس پر مٹی ڈال دیتے ہیں اور اس دھو کے میں مجھے بھی مبتلا کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم تو صرف آپ کا چہرہ دیکھنے کو ترسے ہوئے تھے اس لئے آگئے ہیں اور اس کے بعد جلد از جلد اس چہرے کی طرف پیٹھ کر کے کسی اور ملک کی طرف بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں۔ان کا آنا اپنی جگہ در حقیقت درست ہے لیکن نیت صاف ہونی چاہئے بات کچی ہونی چاہئے اگر وہ یہ کہیں کہ ہم تنگ آگئے تھے ہمیں نکلنے کی کوئی راہ نہیں تھی۔اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم نے سوچا جہاں تک پیش چلے ہم پاکستان سے ہجرت کر کے کسی ایسے ملک میں پناہ لیں جہاں مذہبی آزادی ہو، جہاں امن کے سانس لے سکیں تو اس پر کوئی اعتراض کی بات نہیں۔ساتھ وہ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ساتھ ہی ہمیں یہ