خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 666 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 666

خطبات طاہر جلد ۱۰ 666 خطبه جمعه ۶ اراگست ۱۹۹۱ء اور انسان اپنی نیتوں پر طرح طرح کے پر دے ڈالتا ہے اور ان کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے یہاں تک کہ بسا اوقات خود اپنی نیتوں سے غافل ہو جاتا ہے۔قرآن کریم نے جہاں شیطان کے حملوں کا ذکر فرمایا وہاں ہمیں متنبہ فرمایا کہ: إِنَّهُ يَريكُمْ هُوَ وَقَبِيلُهُ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ إِنَّا جَعَلْنَا الشَّيْطِينَ أَوْلِيَاءَ لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ (الاعراف: (۲۸) کہ دیکھو! شیطان اور اس کے قبیلے تمہیں ایسی جگہوں سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھتے۔امر واقعہ یہ ہے کہ انسانی نیتوں پر اس آیت کا بہترین اطلاق ہوتا ہے انسان اگر اپنی نیتوں کو دیکھنے لگ جائے تو گویا بد نیتوں کو دیکھنے سے وہ شیطان کو دیکھنے لگ گیا۔درحقیقت ہر انسان میں چھپے ہوئے شیاطین کا ذکر ہے جو اس آیت کریمہ میں بیان فرمایا جارہا ہے کیونکہ انسان اپنے نفس کے شیطان سے غافل ہوتا ہے اور دوسروں کے شیطان کو دیکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ بسا اوقات دوسرے کی نیتوں پر بھی حملے کی جسارت کرتا ہے اس لئے وہ شیطان جو پوشیدہ ہے وہ اپنے نفس کا ہی شیطان ہے دوسروں کے نفس کے شیطان تو نہ صرف یہ کہ دوسروں پر پوشیدہ نہیں رہتے بلکہ انسان فرضی شیطان گھر کر بھی ان کی طرف منسوب کرتا رہتا ہے اسی لئے غیروں کے معاملہ میں بدظنی سے بچنے کا حکم آیا ہے کیونکہ وہاں انسانی فطرت کا رجحان یہ ہے کہ شیطان کہیں ہو یا نہ ہوشیطان بنا کرکسی کے سپر د کر دیا جائے اور اس کے سر پر تھوپ دیا جائے۔پس وہ شیطان تو بہر حال خطرناک نہیں ہے جو دکھائی دے رہا ہے یا دکھائی دے نہیں سکتا کیونکہ موجود ہی نہیں۔پس قرآن کریم نے جہاں ان شیاطین کا ذکر کیا ہے کہ إِنَّهُ يُريكُمْ هُوَ وَقَبِيلُهُ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ کہ دیکھو وہ تمہیں ایسی جگہوں سے دیکھ رہا ہے جہاں سے تم اس کو نہیں دیکھ رہے۔وہ اور اس کے قبیلے اس سے ملتی جلتی چیزیں ، اس کے ہمنوا، اس کے ساتھ چلنے والے اس کے موید یہ بھی تمہیں دکھائی نہیں دیتے۔پس اگر آپ اپنے نفس میں ڈوب کر غور کریں تو اگر انسان کو نیکی سے ذرا بھی محبت ہو تو بے اختیار دل سے یہ دعا اٹھے گی کہ نعوذ بالله من شرور انفسنا کہ اللہ سے ، اپنے رب سے ہم اپنے نفس کے شرور سے پناہ مانگتے ہیں اور یہ بھی عجیب بات ہے کہ بہت کم لوگ ہیں جو اس دعا کی طرف توجہ کرتے ہیں۔ہمیشہ غیروں کے شر سے بچنے کی دعا مانگتے رہتے ہیں