خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 665 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 665

خطبات طاہر جلد ۱۰ 665 خطبه جمعه ۶ اراگست ۱۹۹۱ء نعوذ بالله من شرور انفسنا کی دعانفس کی برائیوں سے بچاتی ہے۔دوست اپنی نیتوں کے فتور دور کریں۔جلسہ سالانہ پر تجارت کرنے کی نیت سے شامل نہ ہوں۔خطبه جمعه فرموده ۶اراگست ۱۹۹۱ء بمقام بیت الفضل لندن) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا: جس طرح تقویٰ کی جڑ نظر سے پوشیدہ رہتی ہے اسی طرح ہر بدی کی جڑ بھی نظر سے پوشیدہ رہتی ہے لیکن ایک فرق ہے جڑیں تو سب پوشیدہ ہی رہا کرتی ہیں یہ درخت اور تنے ہیں اور پھول، پھل اور پتے ہیں ٹہنیاں ہیں جو دکھائی دیتے ہیں لیکن ان دونوں میں ایک فرق ہے تقویٰ کی جڑ غیروں سے پوشیدہ رہتی ہے اور انسان اس جڑ سے آگاہ ہوتا ہے اور اسی پر اس کی بناء ہوتی ہے اور بدیوں کی جڑ خود اپنے نفس سے پوشیدہ رہتی ہے اور غیر اس پر اطلاع پاتے رہتے ہیں۔پس یہ ایک نمایاں فرق ہے جسے سمجھنے کے بعد انسان اپنے اعمال کو مختلف بدیوں سے پاک کرسکتا ہے اور مختلف خوبیوں سے زینت بھی بخش سکتا ہے۔اس سے پہلے میں نے اسی موضوع پر ایک خطبہ دیا تھا۔اب میں اس مضمون کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے آپ کو متوجہ کرتا ہوں کہ اکثر انسان خواہ وہ نیکی کے کسی مقام پر بھی ہوں ضرور اپنی کچھ بد حالتوں سے ناواقف رہتے ہیں اور سب سے بڑا فتور نیتوں کا فتور ہے۔نیتیں ہی وہ جڑیں ہیں جن پر نیکی کے پھل بھی لگتے ہیں اور بدیوں کے پھل بھی لگتے ہیں