خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 667
خطبات طاہر جلد ۱۰ 667 خطبہ جمعہ ۶اراگست ۱۹۹۱ء اور لکھتے بھی یہی ہیں کہ دشمنوں کے شر سے بچانے کیلئے ہماری مدد کریں د، عاکریں اللہ شریکے کے شر سے بچائے ،فلاں کے شر سے بچائے اور فلاں کے شر سے بچائے لیکن جس شر سے بچنے کے لئے خدا نے سب سے زیادہ متنبہ فرمایا ہے اس کے شر سے بچنے کی طرف توجہ ہی پیدا نہیں ہوتی۔اس مضمون کا آپ زندگی کے ہر شعبے پر اطلاق کر کے دیکھیں تو اس قدر اس مضمون میں وسعت ہے اور اس تفصیل کے ساتھ انسانی نیتوں پر اس کا اطلاق ہوتا ہے کہ اگر انسان یہ سفر شروع کرے اور یہ تلاش شروع کرے تو ساری زندگی کا سفر ہوگا اور پھر بھی مکمل طور پر طے نہیں ہوسکتا لیکن یہ سفر اندرونی سفر ہے بیرونی سفر کیونکہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے غیروں کی شیطانیوں اور شرارتوں کا جہاں تک تعلق ہے وہ تو آپ نہ صرف دیکھتے ہیں بلکہ بڑھا چڑھا کر دیکھتے ہیں۔ہاں بعض حالتوں میں وہ مخفی بھی رہتی ہیں لیکن ان کے لئے بھی خدا تعالیٰ نے الگ دعائیں سکھا رکھی ہیں لیکن جس حصے سے اکثر غفلت برتی جاتی ہے وہ اپنا نفس ہے اب اس میں آپ نیتوں کی مثالیں ایک ایک کر کے چنیں اور پھر اس پر غور کریں تو آپ کو سمجھ آئے گی کہ کسی حد تک انسانی نیتوں کے فتور اس کی ساری زندگی پر اثر انداز ہو جاتے ہیں۔میں نے آپ کو ایک مثال شادی بیاہ کے تعلق میں دی تھی کہ بیاہ شادی کے وقت بھی انسان ایسی نیتوں کے فتور لے کر چلتا ہے جس کا میاں بیوی کی زندگی پر ، دونوں خاندانوں کے تعلقات پر، آئندہ نسلوں پر بڑا گہرا اثر پڑتا ہے۔انگلستان میں ہمیں بارہا اس کا اس طرح تجربہ ہوتا ہے کہ بسا اوقات باہر سے رشتوں کی تلاش والے آتے ہیں یا مجھے خط لکھتے ہیں کہ ہمارے بیٹے کے لئے انگلستان میں یا امریکہ میں یا کسی اور ترقی یافتہ ملک میں رشتہ ڈھونڈ دیں جب میں انہیں اچھا رشتہ بتا تا ہوں تو وہ کہتے ہیں کہ اس کے ذریعہ ہمارے بیٹے کو نیشنلٹی Nationality نہیں مل سکے گی کیونکہ آپ نے جس لڑکی کا ذکر کیا ہے وہ اگر چہ انگلستان میں رہتی ہے لیکن پاکستانی نیشنلٹی کی ہے یا فلاں نیشنلٹی کی ہے۔ہمیں تو وہ چاہئے جس کے ذریعہ ہمارے بیٹے کو وہاں کی نیشنلٹی مل سکے تو رشتے کا خیال دل میں پیدا ہوا ہے اور تلاش کرنے نکلے ہیں مگر دل کی گہرائی میں نیت میں فتور آ چکا ہے اچھی لڑکی پیش نظر نہیں ہے، اچھے خاندان پیش نظر نہیں ہیں ، نیک عادات پیش نظر نہیں ہیں، یہ خیال نہیں کہ اچھی نسلیں پیدا ہوں اور میاں بیوی کو گھروں کے سکون ملیں۔خیال یہ ہے کہ کسی طرح ہمارے لڑکے کو