خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 605 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 605

خطبات طاہر جلد ۱۰ 605 خطبہ جمعہ ۹ار جولائی ۱۹۹۱ء عبادت کرنے والے کسی اور کی عبادت نہیں کرتے بلکہ اپنے نفس کی عبادت کرتے ہیں ، اپنے فرضی قصوں کی عبادت کرتے ہیں اپنے مفادات کی عبادت کرتے ہیں اور حقیقت میں ان جھوٹے خداؤں سے ان کا کوئی ذاتی تعلق نہیں ہوتا نہ کوئی مشاہدہ ہوتا ہے۔جس کے ساتھ کوئی ذاتی تعلق نہ ہو جس کو مشاہدہ نہ کیا گیا ہو حقیقت میں ان کی عبادت نہیں کی جاتی بلکہ اپنی اغراض اور اپنے نفوس کی عبادت کی جاتی ہے، اپنے تو ہمات کی عبادت کی جاتی ہے۔پس اس آیت نے بہت سے فطری رازوں سے پردہ اٹھایا اور یہ سمجھایا کہ انسان جب کسی بڑے گناہ میں ملوث پایا جاتا ہے یا اس پر الزام لگتا ہے تو وہ چھوٹے گناہ کا اقرار کرتا ہے لیکن اس کا فائدہ کوئی نہیں کیونکہ فرمایا:۔وَقِيلَ ادْعُوا شُرَكَاءَ كُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيْبُوْالَهُمْ وَرَاوُا الْعَذَابَ لَوْ أَنَّهُمْ كَانُوا يَهْتَدُونَ (القصص:۶۵) کہ قیامت کے دن ان سے یہ کہا جائے گا کہ تم ان شرکاء کو اپنی مدد کے لئے بلاؤ جن کو تم دنیا میں پکارا کرتے تھے فَلَمْ يَسْتَجِيبُوا پھر وہ ان کو بلائیں گے اور ان کو پکاریں گے۔آوازیں دیں گے لیکن کوئی جواب نہیں پائیں گے وَرَاوُا الْعَذَاب اور عذاب کو دیکھیں گے لَوْ أَنَّهُمْ كَانُوا يَهْتَدُونَ کاش ایسا ہوتا کہ وہ دنیا کی زندگی میں ہی ہدایت پاچکے ہوتے۔سورۃ سبا کی آیت بیسویں میں یہ دعا درج ہے: فَقَالُوْارَ بَّنَا بِعِدْ بَيْنَ أَسْفَارِنَا وَظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ فَجَعَلْتُهُمْ أَحَادِيثَ وَمَزَقْنَهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ إِنَّ فِي ذَلِكَ لايتٍ لِكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ (سبا:۲۰) حضرت سلیمان نے جب بہت ترقی کی اور بہت عظیم الشان سلطنت قائم ہوئی اور عظیم الشان سلطنوں میں شہری آبادیاں ہمیشہ بڑھ جایا کرتی ہیں اور نتیجہ بعض دفعہ شہروں سے شہرمل جاتے ہیں۔چنانچہ Civilization کی ایک یہ بھی نشانی ہے کہ جتنی بڑی Civilization ہوگی اتنا شہری آبادیاں پھیلتی چلی جائیں گی یہاں تک کہ بعض شہر دوسرے شہروں سے مل جاتے ہیں تو ایسا ہی نقشہ کھینچا گیا ہے کہ ایسی حالت میں یہود نے یہ دعا کی رَبَّنا لِحِد بَيْنَ أَسْفَارِنَا وَظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ فَجَعَلْتُهُمْ أَحَادِيثَ وَمَزَقْنَهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَتٍ لِكُلِّ صَبَّارٍ شگورِ انہوں نے کہا اے خدا ! ہمارے درمیان سفر بڑھا دے مطلب یہ تھا کہ ہماری بستیوں کے درمیان فاصلے زیادہ کر دے وَظَلَمُوا أَنْفُسَهُمُ اور انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا فَجَعَلْتُهُم