خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 604
خطبات طاہر جلد ۱۰ لوگ ہیں جنہیں ہم نے گمراہ کیا تھا۔604 خطبہ جمعہ ۱۹؍ جولائی ۱۹۹۱ء اس سے پہلے ایک ایسی دعا گزری ہے جس میں گمراہ ہونے والے لوگ خدا سے یہ عرض کرتے ہیں کہ اے خدا! ایہ وہ بد بخت ہیں جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا لیکن کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو یہ اقرار کریں گے کہ ہم نے فلاں کو اور فلاں کو اور فلاں کو گمراہ کر دیا تھا كَمَا غَوَيْنَا جیسا کہ ہم خود بھی گمراہ ہو گئے تھے تبر انا اليك آج ہم تیری طرف اپنے گزشتہ اعمال سے الگ ہوکر لوٹتے ہیں یعنی پچھلے اعمال سے بریت کرتے ہیں تو تیری طرف آرہے ہیں مَا كَانُوا اِيَّانَا يَعْبُدُونَ یہاں دراصل ایک اور مضمون شروع ہو گیا ہے۔مَا كَانُوا اِيَّانَا يَعْبُدُونَ کا تعلق پھر انہی لوگوں سے ہے جن کے متعلق کہا گیا کہ ہم نے ان کو گمراہ کیا تھا اور اقرار کی وجہ بھی بیان کر دی گئی ہے۔اس آیت کو سمجھنے کے لئے یہ آخری ٹکڑا اس کی چابی ہے کہ وہ لوگ کیوں خود کہیں گے کہ ہم نے ان کو گمراہ کیا تھا۔لوگ تو ایسے موقع پر کہا کرتے ہیں کہ ہماری تو بہ !ہم نے تو کچھ نہیں کیا لیکن عذاب کو دیکھتے ہوئے بعض لوگ یہ کیوں کہیں گے کہ ہم اقرار کرتے ہیں کہ ہم بھی گمراہ تھے اور ہم نے ان کو گمراہ کیا تھا آخر پر یہ کہا گیا ہے کہ مَا كَانُوا اِيَّانَا يَعْبُدُونَ کہ یہ ہماری عبادت نہیں کیا کرتے تھے۔اصل بات یہ ہے کہ سب سے بڑی سزا ان لوگوں کے لئے جو دنیا میں جھوٹے معبود بن جائیں اور ان کے لئے سب سے خوفناک جہنم ہے جو خدا سے ہٹا کر اپنی عبادت کی تعلیم دینے لگیں۔یہ مضمون ایسے فرضی خداؤں کے اوپر چسپاں ہو رہا ہے جو بعض دوسرے لوگوں کے ساتھ جہنم کے سامنے پیش کئے جائیں گے جن کو ان چھوٹے لوگوں نے خدا بنا لیا تھا جن کو ان چھوٹے لوگوں نے معبود کی صفات دے دی تھیں اس لئے وہ بڑے عذاب سے ڈر کر چھوٹے گناہ کا اقرار کر رہے ہیں ورنہ کوئی اتنی بڑی بہادری نہیں ہے کہ خدا کے حضور حاضر ہو کر بڑی تعلی سے کہیں کہ ہاں ہم گناہگار ہیں ہم نے ایسا کیا تو آیت کا آخری ٹکڑا یہ بتا رہا ہے کہ اے خدا! ہم نے خود ان کو گمراہ کیا ہے ہمیں پتا ہے ہم خود بھی تو گمراہ تھے مگر ہم نے کبھی ان کو یہ نہیں کہا کہ ہماری عبادت کرو۔یہ ان کی جہالت ہے اور اس لحاظ سے ہم بریت کا اعلان کرتے ہیں ہمیں اس بات کی سزا نہ دینا۔گمراہ تھے گمراہی کی سزا دے دینا۔گمراہ کرنے کی سزا دے دینا مگر جھوٹے خدا بننے کی سزا نہ دینا کیونکہ ہم نے ان کو نہیں کہا یہ جو ہماری عبادت کرتے تھے یہ دراصل خود اپنے نفسوں کی عبادت کرتے تھے اس میں دوسرا گہرا حکمت کا راز یہ سمجھایا گیا کہ جھوٹے خداؤں کی