خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 593
خطبات طاہر جلد ۱۰ 593 خطبہ جمعہ ۱۲؍ جولائی ۱۹۹۱ء میں سے کسی ایک کو موت آجائے تو وہ کہے گا کہ اے خدا! مجھے لوٹادے۔لَعَلَّى اَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ كَلَّا (المومنون:۱۰۱) تا کہ میں جو جگہ چھوڑ کر آیا ہوں اس جگہ واپس جا کر نیک اعمال بجالاؤں یعنی اپنی زندگی کو نئے اعمال سے زینت دوں۔كلا خبر دار ایسا نہیں ہوگا۔اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَابِلُهَا یہ تو محض منہ کی بات ہے جو یہ شخص کہہ رہا ہے۔وَمِنْ وَرَابِهِمْ بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ اور ایک پردہ ایسے لوگوں کے پیچھے ہے جو قیامت کے دن تک ان کے درمیان اور حقیقت کے درمیان لٹکا رہے گا۔فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ فَلَا أَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَتَسَاءَلُونَ (المومنون:۱۰۳) جب صور پھونکا جائے گا تو اس دن ان کے درمیان کوئی قرابتین باقی نہیں رہیں گی اور نہ وہ ایک دوسرے کا حال پوچھ سکیں گے۔ایک بات تو بارہا پہلے گزر چکی ہے کہ جب پکڑ کا وقت آجائے جب موت آجائے تو اس وقت بچنے کی کوئی دعا کار آمد نہیں ہوتی۔ان مضامین کو جب دہرایا جاتا ہے تو بے وجہ نہیں دہرایا جا تا بلکہ ان کے ساتھ مزید کچھ اور مضامین بیان کر دئیے جاتے ہیں۔قرآن کریم میں درحقیقت ایک بھی Repitation نہیں ہے۔آپ کو بہت سی جگہ بعض مضامین دہرائے ہوئے دکھائی دیں گے اور انسان سمجھتا ہے کہ وہی مضمون دوبارہ ہے اس کے دو فائدے ہیں۔ایک فائدہ تو یہ ہے کہ بعض مضامین بار بار نظر کے سامنے آئیں تو انسانی فطرت پر زیادہ گہرا اثر پڑتا ہے لیکن اور فائدہ یہ ہے کہ ان دہرائے ہوئے مضامین کو مختلف شکلوں میں پیش کیا جاتا ہے اور قرآن کریم میں ایک بھی ایسی دہرائی نہیں جس کا پس منظر یا بعد میں آنے والی آیات اس مضمون پر کوئی نئی روشنی نہ ڈالتی ہوں اس لئے کہیں بھی محض تکرار نہیں ہے بلکہ ہر تکرار کے ساتھ کچھ حکمتیں ایسی پوشیدہ ہیں جو پہلے موقعہ پر بیان نہیں ہوئی تھیں یا ان کے بعض پہلو بیان نہیں ہوئے تھے۔چنانچہ یہاں بھی یہی بات ہے۔لَعَلَّى اَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ كَلَّا کہہ کر بظاہر وہی باتیں پیش کی گئی ہے جو پہلے بھی کئی دفعہ پیش ہو چکی ہیں مگر اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَمِنْ وَرَابِهِمْ بَرْزَخٌ إِلى يَوْمِ يُبْعَثُونَ اور ان کے درمیان ایک پردہ ہوگا جو قیامت کے دن تک لڑکا رہے گا۔کن کے درمیان پردہ ہے؟ یہ بحث