خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 592
خطبات طاہر جلد ۱۰ 592 خطبہ جمعہ ۱۲؍ جولائی ۱۹۹۱ء بات ظاہر ہو جائے اسے دیکھنے کے باوجود آنکھیں بند کر لی جائیں تو اس پر یہ مضمون صادق آتا ہے۔میں نے تبلیغ کے دوران بہت سے مولویوں سے باتیں کی ہیں اور میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ وہ لوگ اپنی آنکھیں بند کرتے ہوئے نظر آتے تھے۔جب ان کے سامنے کھلی کھلی بات رکھی گئی تو ان کے چہروں پر آپ خوف کے آثار دیکھ سکتے تھے آپ جانتے تھے کہ ان کو نظر آگیا ہے لیکن بڑی پریشانی کے ساتھ انہوں نے اس رخ کو موڑا ہے اور کوشش کر کے مضمون کو بدلتے تھے۔یہ ان لوگوں کا ذکر ہے اور روزمرہ کی زندگی میں بعض دفعہ انسان مومن ہوتے ہوئے بھی ایسی غلطیاں کر جاتا ہے۔اس لئے اس سوال کا جواب خدا نے ہمیشہ کے لئے دے دیا کہ تم آئندہ کی زندگی کے لئے اپنی بصارت اور بصیرت خود بناؤ گے یا خود بگاڑو گے۔اگر اس دنیا میں تم اندھے بن کر رہو گے تو قیامت کے دن بھی اندھے ہی اٹھائے جاؤ گے اور اگر اس دنیا میں روشنی پاؤ گے تو پھر قیامت کے دن بھی روشنی عطا ہوگی۔اس کا تعلق صرف آنکھوں سے نہیں بلکہ حواس خمسہ سے ہے تمام حواس کا تعلق خدا تعالیٰ کی بعض فرماں برداریوں اور بعض نشانات سے ہے اور جہاں جہاں انسان ان کو بھلاتا ہے وہاں اگر کلیاً ان پر فالج نہیں گرا دیتا تو کم سے کم ان حصوں کو بیمار کر دیتا ہے اور قیامت کے دن ان حصوں سے اس نے جنت کی لذیتیں پانی ہیں یا اس جنت سے محرومی کے نتیجے میں عذاب دیکھنا ہے اس لئے بہت ہی احتیاط کی ضرورت ہے کہ اس دنیا میں ہم اپنے حواس خمسہ کو اس طرح استعمال کریں کہ ان سے ملتے جلتے ، ان سے تعلق رکھنے والے حواس خمسہ آئندہ کی دنیا میں پیدا ہوتے رہیں۔چنانچہ جب میں نے کہا کہ اس کا تعلق صرف آنکھوں سے نہیں بلکہ دوسرے حواس سے بھی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کریم اس کے بعد فرماتا ہے کہ وَكَذَلِكَ نَجْزِى مَنْ أَسْرَفَ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِايْتِ رَبِّهِ (طه : ۱۲۸) ہم اس قسم کا سلوک ہر اس شخص سے کرتے ہیں جو اسراف سے کام لیتا ہے اور خدا تعالیٰ کے نشانات پر ایمان نہیں لاتا اور ان کا انکار کرتا ہے۔وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ أَشَدُّ وَابْقَى اس ضمن میں جو بعد میں آنے والا عذاب ہے وہ زیادہ سخت ہوگا اور باقی رہنے والا ہوگا۔یہ دعا سورہ طہ ۱۲۵ تا ۱۲۸ سے ہے سورۃ مومنون کی ۱۰۰ تا ۱۰۲ آیات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ :۔حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ (المومنون : ۱۰۰) یہاں تک کہ جب ان