خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 594
خطبات طاہر جلد ۱۰ 594 خطبہ جمعہ ۱۲؍ جولائی ۱۹۹۱ء ایک مضمون تو یہ ہے کہ مستقبل میں جو کچھ ان کے لئے ظاہر ہونا ہے وہ پوری طرح ان کو دکھائی نہیں دے گا اور ایک پردہ ہو گا لیکن مزید غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اعمال صالحہ کے درمیان اور ان کے درمیان ایک پردہ ہے جو کبھی بھی نہیں اٹھایا جائے گا اور ان کو اعمال صالحہ کی توفیق مل ہی نہیں سکتی۔جس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی میں اگر کوئی شخص بدی کی حالت میں اٹھایا جاتا ہے تو جس حد تک اس کے بچنے کا امکان تھا وہ امکان اس کو مہیا کیا جا چکا ہے۔اور جس شخص کو ابھی اور بھی آزمائش میں ڈالنا ہو اور ابھی اس کی صلاحیتیں پوری طرح استعمال نہ ہوئی ہوں اور یہ امکان ہو کہ ابھی کچھ اور امتحان باقی ہیں تو ایسے شخص کو اگر وہ بد ہے بدیوں میں لمبی زندگی ملتی ہے اور اگر وہ نیک ہے تو نیکی میں اور لمبی زندگی ملتی ہے لیکن کوئی شخص اس وقت تک نہیں مرتا جب تک وہ اپنی نیکی یا بدی کی کیفیتوں میں اس حد تک آزمایا نہ جا چکا ہو کہ جس کے بعد یقین سے یہ کہا جا سکتا ہو کہ اب اس کے بعد اگر اس کو لاکھ سال کی زندگی بھی ملے تو اس کے اندر تبدیلی پیدا نہیں ہوگی۔یہی مضمون ہے جو اللہ تعالیٰ نے وَمِنْ وَرَابِهِمْ بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ میں فرمایا ہے کہ زندگی کی حد تک ہم نے ان کو دیکھ لیا۔یہ جو کہتے ہیں ہمیں دوبارہ موقعہ ملے گا تو ہم نیک اعمال کریں گے۔یہ سب بکواس ، جھوٹ ہے ، منہ کی باتیں ہیں۔قیامت تک یہ لوگ اب نیکی کی توفیق نہ پانے والے ہیں تب ہم نے ان کو ایسی حالت میں اٹھایا ہے اور پھر اس مضمون کو آگے بڑھا کر فرمایا۔فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ فَلَا أَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَبِذٍ وَلَا يَتَسَاءَلُونَ ان کے اور ان کے نیک ساتھیوں کے درمیان کوئی رشتہ بھی باقی نہیں رہے گا جس طرح ان کے اور ان کے اعمال کے درمیان کوئی رشتہ نہیں اسی طرح ان کے وہ رشتے دار جو نیک تھے ان کے درمیان کوئی رشتہ اب دوبارہ قائم نہیں ہوگا بلکہ ان کے بدوں کے ساتھ رشتے رہیں گے اور جس طرح یہاں انسان اپنے نیک ساتھیوں کے بھی حال پوچھ لیا کرتا ہے اولاد ہو یا ماں باپ ہوں یا اور عزیز ہوں ،اقرباء ہوں نیک اور بدا کٹھے رہتے ہیں لیکن یہاں مرنے کے بعد فرمایا کہ بدوں اور نیکوں کی دنیا الگ کر دی جائے گی اور وہ ایک دوسرے کے حال پوچھنے کی بھی توفیق نہیں پائیں گے سوائے اس کے قرآن کریم میں بعض جگہ نمون خدا تعالیٰ سے استدعا کی گئی ہے کہ ہمیں ان لوگوں کا حال بتا اور خدا تعالیٰ ان کو توفیق دے گا کہ نمونڈو سرا حال دیکھ لیں۔وہ ایک الگ مضمون ہے جو استثناء کے طور پر ہے اور اس آیت میں