خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 534
خطبات طاہر جلد ۱۰ 534 خطبہ جمعہ ۲۸ / جون ۱۹۹۱ء طرف ہو گی خواہ کہنے میں وہ کچھ کہتا ر ہے اس کو وہی اجر ملے گا جو اس کی نیت ہے۔پس نیتوں کا بہت گہرا تعلق سچی تو بہ اور آخری نجات سے ہے۔اس پہلو سے جب آپ وہ دعائیں کریں جو حضرت نوح کی دعا ئیں تھیں تو نوح کی کشتی میں بیٹھنے کا تصور بھی تو ساتھ پیدا ہونا چاہئے ورنہ یہ دعا ئیں غیر مقبول ہوں گی اور بے معنی ہو جائیں گی۔آپ دعا تو کریں گے کہ اے خدا! نوح نے جس طرح تجھے پکارا تھا ہم تجھے پکارتے ہیں ہم بھی مغلوب ہوگئے ہیں، ہم بھی بے بس ہو چکے ہیں ، ہماری قوم بھی اپنے ظلموں سے ہم پر غلبہ پاچکی ہے۔ہماری نصرت فرما اور اس کے باوجود ہمارا قدم اس دور کے نوح کی بستی کی طرف اٹھنے والا نہ ہو یعنی نیک لوگوں کی طرف ہجرت کا نہ ہو بلکہ بد شہروں کی طرف ہجرت کا قدم ہو تو یہ دعائیں بالکل بے کار جائیں گی۔ان کے اندر کوئی اثر اور کوئی قوت نہیں ہوگی۔پس دعاؤں کے مضمون کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ ان جیسا بننے کی کوشش کریں جن کی وہ دعائیں ہیں۔حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑی گریہ وزاری کے ساتھ پیغام پہنچانے میں حد کر دی تھی کوئی ایک معمولی سا پہلو بھی باقی نہ چھوڑا جس کے ذریعے آپ قوم تک نجات کا پیغام پہنچا سکتے تھے اور آپ نے نہ پہنچایا ہو اس کا ذکر بعد میں ایک دعا میں آئے گا۔سر دست میں آپ کو اتنا ہی کہنا چاہتا ہوں کہ کشتی نوح کا مطالعہ کیا کریں اور آج کا نوح وہی نوح ہے جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غلامی میں اس زمانے کو عطا ہوا ہے۔آج کے نوح کی کشتی وہ کشتی ہے جس کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیمات میں ملتا ہے۔پس اس کشتی میں بیٹھنے کی کوشش کرتے رہیں اور اللہ تعالیٰ سے اپنی غفلتوں کی بخشش مانگتے رہیں۔میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر ہمارا قدم اس طرف بڑھتارہا تو خواہ ہم اس تک پہنچ سکیں یا نہ پہنچ سکیں خدا کی مغفرت ہمیں اپنی جھولی میں اٹھالے گی اور خود اس کشتی تک پہنچا دے گی۔قرآن کریم میں ایک اور دعا کا ذکر ہے۔جس کا تعلق مومنوں کے باہمی تعلقات سے ہے۔انصار کی تعریف بیان فرمائی گئی کہ وہ کیسے اچھے لوگ تھے کس طرح انہوں نے اپنے گھر مہاجرین کے لئے کھول دیئے اور اس کے بعد مومنوں کی ایک دعا یہ سکھائی گئی۔وَالَّذِينَ جَاءُ وَ مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيْمَانِ (الحشر (1) کہ وہ لوگ جو