خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 533 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 533

خطبات طاہر جلد ۱۰ 533 خطبہ جمعہ ۲۸ / جون ۱۹۹۱ء سرزد نہ ہوا ہو۔وہ مختلف بزرگوں اور مختلف علماء کے دربار میں حاضر ہوتا رہا اور ان کے سامنے اپنی حالت زار بیان کر کے یہ کہتا رہا کہ اب میرا دل چاہتا ہے کہ میں تو بہ کرلوں کیا میرے لئے بھی کوئی تو بہ کا دروازہ کھلا ہے۔ہر عالم ، ہر ظاہری بزرگ نے اس کو یہی جواب دیا کہ تمہارے لئے تو بہ کا کوئی دروازہ نہیں کھلا تم نے اپنے اوپر تو بہ کا ہر دروازہ بند کر لیا ہے اس لئے تمہاری بخشش کا کوئی امکان باقی نہیں رہا۔لیکن بالآخر اس کو کسی ایک بزرگ نے یہ مشورہ دیا کہ تم فلاں شہر کی طرف چلے جاؤ وہ نیک لوگوں کا شہر ہے۔صالحین کا شہر ہے اس شہر میں جابسو اور بد شہروں کو چھوڑ دو تو ممکن ہے تمہاری نجات کا کوئی سامان ہو۔اس نیت کے ساتھ وہ اس شہر کی طرف چل پڑا لیکن راستے میں بیماری نے آلیا اور ایسی حالت ہوگئی کہ اس کے لئے چلنا ناممکن ہو گیا۔چنانچہ اس حالت میں وہ لیٹے ہوئے کہنیوں کے بل گھٹتا ہوا اس شہر کی طرف آگے بڑھنے لگا اور اسی حالت میں اس کو موت آگئی۔ایسے وقت میں خدا تعالیٰ کے فرشتے خدا کے حضور حاضر ہوئے اور اس شخص کا ذکر کرتے ہوئے پوچھا کہ ہم اسے کن لوگوں میں شمار کریں۔اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ یہ بندہ تو بہ کی نیت کر چکا تھا اور توبہ کا ایسا سماں تھا کہ جب اس کے بدن نے جواب دے دیا اور کوئی طاقت باقی نہ رہی تب بھی آخر دم تک گھسٹتے ہوئے نیکوں کے شہر کی طرف حرکت کرتا رہا۔پس اس کے ساتھ یہ معاملہ کرو۔فاصلہ ناپواگر نیکوں کی شہر کی طرف فاصلہ کم نکلے تو اسے بخشے ہوئے لوگوں میں شمار کرو اگر بدلوگوں کے شہر کا فاصلہ کم نکلے یہ سمجھو کہ اس کی بخشش کا سامان نہیں ہوا تمثیل میں یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ فرشتے جب فاصلے ناپنے لگے تو اللہ تعالیٰ بد شہروں کی طرف کا فاصلہ لمبا کرتا چلا گیا اور نیک شہر کی طرف زمین کو سکیڑ تا رہا یہاں تک کہ آخری نتیجہ یہ نکلا کہ فرشتوں نے دیکھا کہ وہ شہر اس کے نزدیک تر ہے جس شہر میں یہ تو بہ کی نیت سے جا رہا تھا۔(حوالہ حدیث۔۔۔۔۔۔۔پس ہمارے خدا کا اپنے بندوں سے ایسا معاملہ ہے۔وہ غَفُورٌ رَّحِیم ہے اس سے مایوسی کفر اور گناہ ہے۔پس کوشش یہ ہونی چاہئے کہ ہمارا قدم ہجرت میں نیکوں کی طرف ہو دراصل اس تمثیل کا تعلق حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ کی اس مشہور حدیث سے ہے کہ انما الاعمال بالنیات ہر شخص کا عمل اس کی نیتوں کے مطابق طے پائے گا اگر اس کی ہجرت خدا کی طرف ہوگی تو ایسا شخص خدا سے اجر پانے والا ہوگا اگر اس کی ہجرت کسی عورت کی طرف یا مال کی طرف یا کسی دنیاوی غرض کی