خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 493 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 493

خطبات طاہر جلد ۱۰ 493 خطبہ جمعہ ۱۴ جون ۱۹۹۱ء پس مغفرت پر بھی سہارا ہو سکتا ہے لیکن بسا اوقات محض مغفرت پر سہارا نہیں لیا جاسکتا اور عادت کو ایسا درست کرنا ضروری ہے کہ جس کے نتیجہ میں دعائیں قبول ہوں اور اسی مضمون کو قرآن کریم نے ہمارے انسانی تعلقات کے سلسلہ میں ایک اور رنگ میں بیان فرمایا۔فرمایا جب کوئی تمہارا گناہ کرتا ہے۔جب کوئی تم پر زیادتی کرتا ہے تو تمہارا حق ہے کہ تم بدلہ لو جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا حق ہے کہ وہ ہمیں گناہوں کی سزا دے لیکن فَمَنْ عَفَا وَ أَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ (الشوری: ۴۱) جو مغفرت کرے بشرطیکہ اس کی مغفرت اصلاح کا موجب بنے جرم کی حوصلہ افزائی کا موجب نہ بنے اس کا اجر خدا کے ہاں ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس مضمون میں قبولیت دعا کا بہت گہرا راز بھی بیان فرما دیا۔جب خدا نے ہمیں یہ نصیحت فرمائی کہ تمہیں کھلی بخشش کی اجازت نہیں ہے۔اگر تمہاری بخشش کے نتیجہ میں گناہ کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے تو نہیں بخشنا لیکن اگر اصلاح پیدا ہوتی ہے اور انسان اس بخشش کے شکر کے نتیجہ میں اپنی حالت تبدیل کرتا ہے تواللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ پھر ایسے شخص کی بخشش باعث اجر ہے اور یقیناً خدا کے پاس اس کا اجر محفوظ ہے۔پس وہی بات ہے جو یہاں کی جارہی ہے۔انسان کے تعلق میں بھی وہی اصول بیان ہوا ہے۔قرآن کریم کی آیات میں بہت گہرے رشتے ہیں۔ایک منضبط نظام ہے۔اندراندر تعلقات قائم ہیں اور کوئی بھی ایسی آیت نہیں جو دوسری آیات کے ساتھ گہرے تعلقات نہ رکھتی ہو۔پس اس ضمن میں مغفرت کا مفہوم اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے جس کے نتیجہ میں جب بھی بخشش کی دعا کی جائے تو دل میں یہ نیت ہونی چاہئے کہ اگر اللہ بخشش کا سلوک فرمائے گا تو اس کے بعد میں بھی انبیاء کی سنت پر چلتے ہوئے اس کے شکریہ کا اظہار اس رنگ میں کروں گا جس رنگ میں پاک لوگوں کی سنت چلی آئی ہے۔اب یہ سوال ہے کہ پھر خدا بار بارایسے لوگوں کو کیوں بخشتا ہے جو بار بار جرم کرتے ہیں۔باوجود اس کے کہ ہمیں منع کرتا ہے کہ جرم کی حوصلہ افزائی نہیں کرنی۔اگر بخشش کے نتیجہ میں جرم سرزد ہو تو پھر نہیں بخشا۔میں نے اس مضمون پر گہرائی سے غور کیا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ میں اس مسئلے کو صحیح حل کر سکا ہوں۔جہاں تک میں نے جائزہ لیا ہے خدا تعالیٰ کی مغفرت ایسے گنہگاروں سے بار بار ہوتی ہے جن کے دل میں شرم یقیناً پیدا ہوتی ہے، بخشش کے نتیجہ میں جرم کی