خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 492 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 492

خطبات طاہر جلد ۱۰ 492 خطبہ جمعہ ۱۴ / جون ۱۹۹۱ء جاتا ہے یا کسی اور نازک جگہ پر کہ اس سے انسان کی جان بھی نکل جاتی ہے تو قرآن کریم کے بیان کے مطابق حضرت موسی نے جب مکہ مارا تو اس کا وقت آ گیا تھا۔اس نے دم توڑ دیا اور اس وجہ سے حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام ڈرتے رہے اور توبہ کرتے رہے۔چنانچہ آپ نے عرض کیا۔رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِی اے میرے رب ! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا۔پس مجھے بخش دے۔فَغَفَرَ لَهُ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (القصص: ۱۷ ) اللہ تعالیٰ نے یقیناً اس کو بخش دیا اور وہ بہت ہی بخشنے والا اور بار بار رحم فرمانے والا ہے۔اس کے بعد حضرت موسی نے ایک عرض کی۔قَالَ رَبِّ بِمَا أَنْعَمْتَ عَلَى فَلَنْ أَكُونَ ظَهِيرَ الِلْمُجْرِمِينَ (القصص:۱۸) اے میرے رب! تو نے چونکہ مجھ پر انعام فرمایا ہے۔بخشش کا سلوک فرمایا ہے۔پس مجھ پر شکر واجب ہے اور میں یہ اقرار کرتا ہوں کہ آج کے بعد کبھی مجرموں کی مدد نہیں کروں گا۔اس میں ہر دعا کرنے والے کے لئے ایک پیغام ہے۔ہم جب دعا کرتے ہیں تو بسا اوقات یہ سوچتے ہیں کہ فلاں کی دعا قبول ہو گئی ہماری نہیں ہوئی حالانکہ دعا کی قبولیت میں بھی ایک بہت ہی لطیف نظام عدل جاری ہے۔وہ لوگ جو قبولیت دعا کے بعد اس کا شکر ادا کرنا جانتے ہیں دعا کی قبولیت کے بعد جوان پر تقاضے عائد ہوتے ہیں ان کا حق ادا کرنا جانتے ہیں، ان کی دعائیں اللہ تعالیٰ زیادہ سنتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ صرف انہی کی دعائیں سنی جائیں۔بعض دفعہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ایک شخص جس گناہ میں ملوث ہے پھر ہوگا، پھر ہوگا اور پھر ہوگا پھر بھی بخشتا چلا جاتا ہے۔یہ تو اس کی مغفرت کے ساتھ تعلق رکھنے والی بات ہے لیکن اگر آپ دعا کی قبولیت کا راز سمجھنا چاہیں۔یعنی وہ معاملہ جو خدا اور انبیاء کے درمیان ہوتا ہے تو وہاں اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ خاص رحمت کا سلوک اس لئے فرماتا ہے ان کی دعائیں بہت زیادہ قبول کرتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ ناشکرے نہیں ہیں۔میری طرف سے ہر احسان کے بعد یہ پہلے کی نسبت احسان کا بہت زیادہ بخشش مانگنے کے ذریعے بدلہ اتارنے کی کوشش کریں گے۔اللہ تعالیٰ کے احسان کے مقابل پر تو احسان نہیں ہوسکتا لیکن اس کے سامنے زیادہ جھک کر اور اس کے احسانات میں ڈوب کر اور بار بار اس کی حمد کے گیت گا کر ایک رنگ میں انسان احسان کا اعتراف کرتا ہے۔پس ایسے لوگوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا مغفرت کا زیادہ سلوک ہوتا ہے اور ان کی دعائیں بھی عام لوگوں کی نسبت زیادہ مقبول ہوتی ہیں۔