خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 494
خطبات طاہر جلد ۱۰ 494 خطبہ جمعہ ۱۴ / جون ۱۹۹۱ء حوصلہ افزائی نہیں ہوتی۔واقعی تائب ہوتے ہیں، بہت شرمندہ ہوتے ہیں، علیحدگی میں خدا کے حضور روتے ہیں، گریہ وزاری کرتے ہیں، اے خدا ہمیں بخش دے ہم سے غلطی ہوئی ، بہت گنہ گار ہیں کمزور ہیں اور پھر اس کے بعد کمزوری غالب آجاتی ہے۔ایسے لوگوں کا معاملہ ہرگز وہ نہیں ہے جن کے ساتھ آپ حسن سلوک کریں اور وہ گناہوں پر شیر ہوتے چلے جائیں۔ہر گھر میں ایسے بچے دیکھے گئے ہیں بعض مائیں ان کو بگاڑ دیتی ہیں اور وہ اتنے بدتمیز ہو جاتے ہیں کہ آنے والے مہمانوں کا بھی ناک میں دم کر دیتے ہیں۔ان گھروں میں جانا ایک مصیبت بن جاتی ہے کیونکہ وہ ہر جرم کے بعد اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔کوئی بات نہیں۔کوئی حرج نہیں۔ٹھیک ہے سب کچھ۔یہ وہ مضمون ہے جس کو قرآن کریم بیان فرما رہا ہے کہ اگر مغفرت کرنی ہے تو ایسے شریف النفس لوگوں کی مغفرت کرو جن کے اوپر نیک اثر پڑے۔یہ لازم نہیں ہے کہ اسی وقت وہ تو بہ کر لیں لیکن اصلاح کی طرف میلان ضرور رکھتے ہوں۔پس اللہ تعالیٰ چونکہ عالم الغیب ہے اور دل کی گہرائیوں پر نظر رکھتا ہے وہ جانتا ہے کہ میرے کون سے بندے نیک فطرت اور سعید ہیں اور گنا ہوں میں ملوث ہونے کے باوجود کچی شرمندگی کا احساس رکھتے ہیں وہ اس علم کے باوجود ان کو بخش دیتا ہے کہ پھر بھی گناہ کریں گے اور پھر بھی گناہ کریں گے لیکن بالآخر وہ نیک انجام ہوتے ہیں۔ان میں اور دوسرے لوگوں میں فرق یہ ہے کہ جو گناہوں پر اصرار کرتے ہیں اور ضد کرتے ہیں اور بدتمیزی سے گناہ پر جرات کرتے ہیں وہ ہمیشہ بد انجام کو پہنچتے ہیں لیکن کچی تو بہ کرنے والے یا تو بہ کرتے رہنے والوں کا انجام ہمیشہ نیک ہوتا ہے۔پس یہاں خدا تعالیٰ نے حضرت موسی کے متعلق فرمایا کہ وہ بہت ہی نفیس طبیعت کا انسان تھا۔میں نے بغیر شرط کے اس کو بخشا لیکن اس کے دل میں بہت ہی جذبات تشکر پیدا ہوئے اس نے کہا قَالَ رَبِّ بِمَا اَنْعَمْتَ عَلَيَّ فَلَنْ أَكُونَ ظَهِيرَ اللْمُجْرِمِينَ (القصص: ۱۸) اے خدا! تو نے بڑا احسان کیا ہے جو مجھے بخش دیا ہے اب میں اس کے بدلے تو بہ کرتا ہوں اور عہد کرتا ہوں کہ آئندہ کبھی مجرموں کی پشت پناہی نہیں کروں گا۔حضرت موسٹی کی ایک اور دعا ہے قَالَ رَبِّ نَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ (القصص: ۲۲) جب اس حادثاتی قتل کی اطلاع جس کا ذکر ا بھی گزر چکا ہے قوم کے بڑے لوگوں تک پہنچی تو انہوں نے مل کر مشورے کئے کہ اس شخص کو ضرور سزا دینی چاہئے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک