خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 491 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 491

خطبات طاہر جلد ۱۰ 491 خطبہ جمعہ ۱۴ / جون ۱۹۹۱ء ہیں کہ ابھی میں نے تسلیم ورضا کی راہیں طے کرنی ہیں اس لئے اس سے پہلے جو میں نے حضرت سلیمان پر یہ اثر ڈالا تھا کہ گویا میں تو پیغام سنتے ہی مسلمان ہوگئی تھی یہ مجھ سے غلطی ہوئی اور میں اس سے تو بہ کرتی ہوں۔وَاَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَنَ اور اس دفعہ اس نے بہت ہی عمدہ الفاظ میں اپنے ایمان کو بہت اعلیٰ رنگ میں پیش کیا ہے کہ اب جو میرا ایمان ہے وہ وہی ہے جو سلیمان کا ہے اور جیسا کہ سلیمان کے ایمان میں کوئی رخنہ نہیں ہے کوئی گدلا پن نہیں ہے، اسی طرح اب اے میرے خدا تو میرے ایمان کو بھی اسی طرح قبول فرما لے۔رَبِّ الْعَلَمِينَ جو تمام جہانوں کا رب ہے۔پس یہ دعا بھی انسان کو بعض مواقع پر کام دیتی ہے۔کئی قسم کے ظلم انسان کرتا ہے۔اگر چہ آج کل ویسا شرک تو نہیں جیسے پرانے زمانوں میں پایا جاتا تھا یا اب بھی بعض جگہوں میں پایا جاتا ہے لیکن بسا اوقات انسان اپنے نفس کو معبود بنالیتا ہے۔اپنی خواہشوں کو معبود بنالیتا ہے جیسا کہ قرآن کریم نے فرمایا تو ہر ایسے موقعہ پر جب کہ سہوا بھی غلطی ہو انسان کو ایسی دعا کرنی چاہئے جس کا تعلق شرک سے سچی توبہ اور حقیقت اسلام کو پالینے سے ہے۔ایک دعا حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کی ہے یہ سورۃ القصص آیت ۱۷ سے لی گئی ہے۔وہ عرض کرتے ہیں۔رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِی اے میرے رب ! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا پس مجھے بخش دے۔یہاں ظلم کا معنی وہ نہیں ہے جو اس سے پہلے گزر چکا ہے۔یہاں ظلم سے مراد ایک ایسا واقعہ ہے جس میں حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام معصومانہ ملوث ہو گئے تھے۔پس جب ایک عام انسان ظلم کا لفظ استعمال کرتا ہے تو اس کے معانی زیادہ گہرے ہوتے ہیں۔بعض دفعہ واقعی اس سے بڑا ظلم سرزد ہوا ہوتا ہے لیکن اگر ایک نبی یا ولی خدا تعالیٰ کے سامنے عاجزی سے یہ کہتا ہے کہ میں نے ظلم کیا تو اس کو ان معنوں میں نہیں لینا چاہئے۔مثلاً ملکہ سبا کا ظلم ابھی گزرا ہے۔وہ واقعی ایک مشترکہ تھی۔اس نے شرک سے توبہ کی تھی۔اس سے جو پہلا فعل سرزد ہوا تھا وہ بھی اس کے نزدیک ایک فلم تھا اور واقعہ ظلم تھا لیکن حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام جس ظلم سے تو بہ کر رہے ہیں اس سے مراد یہ ہے کہ آپ نے ایک ہم قوم کو ایک ظالم قوم کے ہاتھوں مار کھاتے ہوئے دیکھا۔تو اس کی مدد کے لئے آگے بڑھے۔آپ یہ سمجھتے تھے کہ یہ شخص مظلوم ہے اور طاقتور قوم کا فرد اس پر ظلم کر رہا ہے کیونکہ آپ بہت طاقتور تھے۔آپ نے جب اس کو مکہ مارا تو ایسی جگہ لگ گیا مثلاً بعض دفعہ کنپٹی پر لگ