خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 490 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 490

خطبات طاہر جلد ۱۰ 490 خطبہ جمعہ ۱۴ جون ۱۹۹۱ء پاس حاضر ہوئی تھی تو اس نے یہ کہا تھا کہ ہم نے تو جب پیغام سنا تھا اسی وقت ہی مسلمان ہو گئے تھے۔تعجب یہ ہے کہ پھر دوبارہ اسلام لانے کا کیا مطلب ہے۔اصل واقعہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان سمجھتے تھے کہ منہ کی ایک بات ہے۔حقیقت میں ان کو ابھی اسلام کا علم نہیں۔اسلام لانے اور اسلام میں ترقی کرنے میں ایک فرق ہے۔پس حضرت سلیمان نے اس کا ایک امتحان لیا اور امتحان ہی نہیں بلکہ اس امتحان کے ذریعہ ایک پیغام دیا۔آپ نے اسے ایک ایسے کمرے میں ملاقات کا وقت دیا جس کا فرش شیشے سے جڑا ہوا تھا اور دیکھنے والے کو دھوکا لگتا تھا کے یہ پانی ہے،شیشہ نہیں ہے۔چنانچہ ملکہ جب اس میں داخل ہوئی تو اس نے اپنے کپڑے بے اختیار اس طرح سمیٹ لئے جس طرح پانی میں داخل ہوتے وقت ہر انسان طبعاً اپنے کپڑے سمیٹتا ہے۔اس پر جب اس کو احساس ہوا کہ یہ غلطی ہوئی ہے تو پھر وہ سمجھی کہ دراصل مجھے یہ پیغام ہے کہ یہ جو ظاہری چمک ہے یہ کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔اس کے پیچھے ایک اور پیغام ہے اور وہ خدا تعالیٰ ہے۔پس صنعت کی چمک دمک سے دھوکا نہیں کھانا چاہئے۔جب یہ پیغام اس کو ملا تو در حقیقت وہ توحید کی دوبارہ قائل ہوئی ہے اور دل کی گہرائی سے قائل ہوئی ہے۔چنانچہ اس واقعہ کے معاً بعد اس نے یہ اظہار کیا ہے۔اس سے پہلے آیت میں یہ ہے کہ۔فَلَمَّا رَأَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَكَشَفَتْ عَنْ سَاقَيْهَا قَالَ إِنَّهُ صَرْحُ مُمَرَّدُ مِنْ قَوَارِيرَة (النمل: ۴۵) جب وہ کمرے میں داخل ہوئی تو وہ مجھی کہ یہ ایک چمکتا ہوا شفاف پانی ہے۔وَكَشَفَتْ عَنْ سَاقَيْهَا اس نے اپنے لباس کو اٹھایا یہاں تک کہ اس کی پنڈلیاں ننگی ہوگئیں۔قَالَ إِنَّهُ صَرْح مُمَرَّد اس پر حضرت سلیمان نے فرمایا کہ یہ تو جڑاؤ شیشہ ہے اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔من قواریر شیشے کے جڑاؤ ٹکڑوں سے بنا ہوا ہے۔تب اس نے دعا کی قَالَتْ رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِی اے میرے رب ! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا۔یہاں ظلم کے معنی دو طرح ہیں۔ایک تو ظلم اور شرک کو قرآن کریم نے ہم معنی قرار دیا ہے اور چونکہ وہ مشرک قوم سے تعلق رکھتی تھی اور حقیقت میں اب اس کو تو حید کا سچا علم ہوا تھا اس لئے ظلمت کے معنی یہ ہیں کہ اس سے پہلے میں ایک مشرکانہ زندگی بسر کرتی تھی۔میں اس سے تو بہ کرتی ہوں۔دوسرے ظاہر داری کی باتوں میں یا محض دوسرے کو خوش کرنے کے لئے یہ کہنا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں یہ بھی ایک ظلم ہوا کرتا ہے۔تو وہ سمجھ گئی کہ حضرت سلیمان کو اب میری حقیقت کا علم ہو چکا ہے۔آپ جانتے