خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 483 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 483

خطبات طاہر جلد ۱۰ وہ وه چھوٹے درجہ 483 خطبہ جمعہ ۷/ جون ۱۹۹۱ء نیچی رہے میں اپنے پیاروں کی نسبت ہرگز نہ کروں گا پسند کبھی راضی ہوں اور ان کی نگاہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر شیروں کی طرح غراتے ہوں سا قصور اگر دیکھیں تو منہ میں گف بھر لاتے ہوں ادفی وہ وه اور ہوں چھوٹی چھوٹی چیزوں پر امید لگائے بیٹھے ہوں ادنی ادنی خواہش کو مقصود بنائے بیٹھے شمشیر زباں گھر بیٹھے دشمن کو مارے جاتے ہوں میدانِ عمل کا نام بھی لوتو جھینپتے ہوں گھبراتے ہوں گیدڑ کی طرح وہ تاک میں ہوں شیروں کے شکار پہ جانے کی بیٹھے خواہیں دیکھتے ہوں وہ ان کا جو ٹھا کھانے کی اے میری الفت کے طالب ! یہ میرے دل کا نقشہ ہے اب اپنے نفس کو دیکھ لے تو وہ ان باتوں میں کیسا ہے تیری ہمت چھوٹی ہے گر تیرے ارادے مردہ ہیں تیری اُمنگیں کو تہ ہیں گر تیرے خیال افسردہ ہیں کیا تیرے ساتھ لگا کر دل میں خود بھی کمینہ بن جاؤں ہوں جنت کا مینار ، مگر دوزخ کا زینہ بن ہے خواہش میری الفت کی تو اپنی نگاہیں اونچی کر تدبیر کے جالوں میں مت پھنس کر قبضہ جا کے مقدر پر میں واحد کا ہوں دل دادہ اور واحد میرا پیارا ہے گر تو بھی واحد بن جائے تو میری آنکھ کا تارا ہے تو ایک ہو ساری دنیا میں کوئی ساجھی اور شریک نہ ہو لیکن خود تیرے ہاتھ میں بھیک نہ ہو نیا کو دے جاؤں ( کلام محمود صفحه :۱۴۲)