خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 484
خطبات طاہر جلد ۱۰ 484 خطبہ جمعہ ۷/ جون ۱۹۹۱ء مجھے ان سے پیار ہے جو اعلیٰ اخلاقی اقدار کے حامل ہیں۔جن کا افق وسیع ہے، جن کے پاس درگزر کرنے کی صلاحیت ہے۔جو لوگوں میں گھل مل کر رہتے ہیں اس کے باوجود کہ انہیں تنگ کیا جائے۔وہ معاف کرنا جانتے ہیں۔وہ درگزر کرنا جانتے ہیں اور باوجود اس کے کہ ان پر ظلم ہو وہ اپنے دشمنوں سے معافی طلب کرتے ہیں، بجائے اس بات کا انتظار کرنے کے کہ ظلم کرنے والے ان کے وازے کھٹکھٹا کے معافی طلب کریں۔جن پر ظلم ہوتا ہے وہ فیصلہ اپنے ہاتھوں میں لے لیتے ہیں اور جا کر ظالموں سے معافی مانگ لیتے ہیں۔یہ ایک عجیب تعلیم ہے مگر حضرت مسیح موعود نے ہمیں یہی تعلیم دی ہے کہ: وو سچے ہو کر جھوٹے کی طرح تذلیل کرو۔(کشتی نوح روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۱۳) اگر تم درست بھی ہو، خدا کی خاطر ان لوگوں سے معافی مانگنا سیکھو، جنہوں نے تم پر ظلم کیا ہے جیسے تم نے ان پر زیادتی کی ہو، جیسے تم غلطی پر ہو۔میں نے حضرت مسیح موعود کی اس نصیحت پر برسوں غور کیا ہے اور میرے خیال میں انسانی معاشرے کے دو متحارب گروہوں کو آپس میں ملانے کا اس سے بہتر کوئی فارمولا نہیں۔ان بھائیوں کو متحد کرنے کیلئے جو چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایک دوسرے سے ہفتوں ناراض رہتے ہیں۔بات بھی نہیں کرتے۔جو چھوٹی چھوٹی باتوں پر علیحدہ ہو جاتے ہیں اور پھر ان کے خاندان علیحدہ ہو جاتے ہیں۔بعض اوقات تو وہ جماعت سے بھی الگ ہو جاتے ہیں۔صرف اس بات پر کہ ان کے خیال میں مشنری انچارج نے یا کسی اور عہدیدار نے ان سے زیادتی کی ہے۔بعض دفعہ وہ کسی حقیقی یا خیالی زیادتی پر مسجد میں جانا چھوڑ دیتے ہیں۔ایسے لوگوں سے لمبے عرصہ سے میرا واسطہ رہا ہے۔میں پاکستان میں بہت پھر اہوں۔بہت سے دیہاتوں میں جاتا رہا ہوں دور ونزدیک سفر کیا ہے اور ہر جگہ اس قسم کے لوگوں سے واسطہ پڑا ہے۔جو اپنے بارہ میں بہت حساس ہوتے ہیں اور بعض گفتنی یا نا گفتنی باتوں پر ایک دوسرے سے جھگڑنا شروع کر دیتے ہیں۔چنانچہ جب بھی میرا ان سے واسطہ پڑا۔میرے پاس حل موجود تھا۔ان کا اصرار ہوتا تھا کہ ہم صحیح ہیں اور دوسرا غلط۔ہم اس سے معافی کیوں مانگیں؟ اور جب دوسرے فریق کے پاس جاؤ تو تو وہ خود کو