خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 482
خطبات طاہر جلد ۱۰ 482 خطبہ جمعہ ۷/ جون ۱۹۹۱ء آنحضور ﷺ پر نازل ہوا، کو سمجھنے کا یہی ایک راستہ ہے۔تو جب ہمیں دوبارہ سمجھایا گیا، دوبارہ وضاحت کی گئی تو اب ہم پر ڈہری ذمہ داری عائد ہو جاتی ہے کہ اس پیغام پر عمل کریں۔جب میں یہ کہتا ہوں تو میری نظر میں بہت سے ایسے چھوٹے چھوٹے اختلافات ہیں جو آپ میں وقتا فوقتاً پیدا ہوتے رہتے ہیں۔جن پر بعض دفعہ مجھے اطلاع ہو جاتی ہے اور میں بہت بے چین ہو جاتا ہوں۔بعض اوقات مجھے گہرا دکھ پہنچتا ہے، میں درد محسوس کرتا ہوں، پریشان ہوتا ہوں کہ کیا ہورہا ہے۔میں آپ کے پاس آکر سمجھانا چاہتا ہوں کہ یہ وہ رویہ نہیں ہے جو آپ سے اپنانے کی خواہش کی جاتی ہے۔چھوٹی چھوٹی باتیں آپ کو علیحدہ نہ کریں۔آپ تو دنیا کو متحد کرنے کیلئے تخلیق کئے گئے ہیں مختلف انسانوں کو آپس میں جوڑنے کیلئے انہیں تقویت دینے کیلئے۔آپ تو جوڑنے کیلئے آئے ہیں نہ کہ توڑنے کیے لئے تو اگر آپ چھوٹی باتوں پر ایک دوسرے سے جھگڑیں گے۔اگر ایک دوسرے پر بدظنی کریں گے تو بکھر جائیں گے۔آپ خدا کے نام پر اپنے لئے چھوٹی چھوٹی علیحدہ مساجد تعمیر کرنے لگیں اور انہیں ایک مخصوص خاندان یا گروپ کیلئے خاص کریں تو یہ تو اسلام نہیں۔قرآن مجید اس کے حوالہ سے بڑی شدت سے اس کی نفی کرتا ہے۔مسجد ضرار کیا تھی ؟ مسجد ضرار ایک مسجد تھی جو بظاہر خدا کے نام پر بنائی گئی تھی مگر دراصل یہ مسلمانوں کے ایک حصہ میں اختلافات پیدا کرنے کیلئے تعمیر کی گئی تھی۔زندگی میں اللہ تعالیٰ کا گھر بنانے سے زیادہ مقدس کیا کام ہوسکتا ہے۔بیوت اللہ۔مگر اگر نیتیں خراب ہوں اگر نیت میں جوڑنے کی بجائے توڑنے کا فتور پایا جاتا ہو تو پھر یہ مقدس ترین مقصد بھی گھناؤنا ہو جاتا ہے۔پس میں آپ سے درخواست کرتا ہوں۔میں دل کی گہرائیوں سے آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ جو میں نے بیان کیا ہے اس کی روشنی میں وحدت کو قائم رکھیں ، اس کی تو قیر کریں، اس بات کو سمجھیں کہ خدا کی وحدانیت کا اظہار خدا کے نزدیک کوئی وقعت نہیں رکھتا ، جب تک آپ آپس میں متحد نہ ہوں۔اگر آپ پہلے اپنے بھائیوں سے اور پھر تمام انسانیت کے ساتھ اتحاد نہیں کرتے۔پس یہ پیغام بہت گہرا اور اہم ہے۔حضرت مصلح موعودؓ نے اس حوالہ سے ایک دفعہ ایک نظم لکھی۔انہوں نے لکھا کہ: