خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 466 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 466

خطبات طاہر جلد ۱۰ 466 خطبہ جمعہ ۳۱ رمئی ۱۹۹۱ء جاتا اور صرف بادشاہ مانا جاتا ہے بلکہ ایسے گندے کردار کا بادشاہ مانا جاتا ہے کہ اس کو پڑھ کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔اگر نعوذ باللہ من ذالک یہ خدا کا شکر گزار بندہ ہے تو پھر دنیا سے امن و امان اٹھ جائے۔دنیا میں کوئی نیکی باقی نہ رہے۔یہ قرآن کریم کا احسان ہے کہ اس نے بائیبل کے گزشتہ انبیاء کے تقدس کو دنیا کے سامنے دوبارہ قائم کیا ہے۔یہ قرآن کریم کا احسان ہے کہ اس نے حضرت داؤ د اور حضرت سلیمان کو ایسے پاکباز خدا ترس بزرگ انسانوں کے طور پر پیش کیا ہے جن کو خدا تعالیٰ نے اپنی اعلیٰ ترین نعمت عطا فرمائی۔ورنہ بائبل کی رو سے اور یہود کے قصوں کی رو سے تو حضرت سلیمان علیہ السلام ایک نہایت ہی خوفناک قسم کے بد کردار انسان (نعوذ بالله من ذلك) بنتے ہیں۔اس سلسلہ میں یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ عیسائی عام طور پر قرآن کریم پر جو یہ اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن کریم نے تو بائبل کی نقل اتاری ہے وہ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کو یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کو کوئی وحی نازل نہیں ہوئی تھی ، جو پرانی بائبل کی باتیں ہیں وہ آپ نے یہودیوں اور عیسائیوں سے سنی ہیں اور انہی قصوں کو قرآن کریم میں لے لیا ہے۔اگر یہ بات درست ہوتی تو قرآن کریم میں حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کا ذکر نبی کے طور پر نہ ملتا اور حضرت داؤ د اور حضرت سلیمان کا ذکر اتنے پیار کے ساتھ اور محبت کے ساتھ نہ ملتا۔ایسے مقدس اور بزرگ انسانوں کے طور پر نہ ملتا بلکہ بائبل کی نقل ماری ہوتی تو قرآن کریم ان کے ذکر سے بھی گھن کرتا، اور کہتا دیکھو نعوذ باللہ من ذالك کیسے گندے لوگ تھے۔پس قرآن کریم نے حضرت سلیمان کو جو ہمارے سامنے پیش کیا ہے تو ایک بہت ہی عظیم الشان اور بزرگ نبی کے طور پر پیش کیا ہے جو احسان مند اور ہر لمحہ خدا کا شکر یہ ادا کرنے والا تھا اور بنی نوع انسان کو ان نعمتوں سے حصہ دینے والا تھا جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی تھیں۔اس کے مقابل پر آپ جب بائبل پر غور کرتے ہیں اور بائبل کے جو محققین ہیں ان کی رائے دیکھتے ہیں تو آپ حیران ہو جاتے ہیں کہ کس طرح بعض قو میں ظالم ہو کر اپنے پاک انبیاء پر کیسے کیسے بہتان تراشنے لگتی ہیں۔ایک یہودی تاریخ کا مصنف حضرت سلیمان کے متعلق لکھتا ہے کہ یہود حضرت سلیمان کی بادشاہت سے سخت بیزار تھے کیونکہ وہ نہایت گندے کردار کے انسان تھے، نہ صرف گندے کردار کے بلکہ مشرک تھے اور خدا کے ساتھ اپنے کئے ہوئے عہد کو توڑ بیٹھے تھے اور غیر قوموں کی عورتوں کو بیاہ