خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 467 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 467

خطبات طاہر جلد ۱۰ 467 خطبہ جمعہ ۳۱ رمئی ۱۹۹۱ء کر کے لاتے تھے اور پھر ان کے معبودوں کی پرستش کرنے لگ جاتے تھے۔یہ جو کچھ لکھا ہے یہ بائبل کی نقل کی ہے۔بائبل میں یہ باتیں لکھی ہوئی ہیں۔لیکن آخر پر وہ لکھتا ہے کہ ہاں ایک بات ہے کہ وہ عقلمند ضرور تھے۔لیکن اس عقل کا کیا فائدہ جوان کے کام نہ آسکے۔چنانچہ وہ کہتا ہے یہود میں یہ حکایت مشہور تھی اور یہ بات بار بار کہی جاتی تھی کہ :۔Soloman was the wisest man on earth yet see how۔foolishly he lived کہ سلیمان دنیا کا سب سے زیادہ عقل والا انسان تھا لیکن دیکھو دیکھو وہ خود کتنی بیوقوفی کی زندگی گزار کر چلا گیا۔تو ایسی ظالم قوم ہے کہ حضرت سلیمان کے اوپر ایسے ایسے بہتان باندھے ہیں جو ایک عام انسان پر بھی باندھتے ہوئے خدا کا خوف کھانا چاہئے اور آپ کے کردار کو ہر طرح سے داغدار بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔میں نے اس پر تحقیق کی غور کیا، کچھ بائبل کے متعلقہ حصوں کا مطالعہ کیا تو مجھے یہ راز سمجھ آیا ہے کہ کیوں انہوں نے ایسا کیا ہے۔حضرت سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام غیر معمولی انصاف کرنے والے انسان تھے۔ایسا منصف نبی اور بادشاہ یہود کی تاریخ میں آپ کو شاید ہی کوئی اور دکھائی دے بلکہ بے مثل ہیں اس معاملہ میں چنانچہ آپ نے غیر قوموں کو یہ حق عطا کیا کہ مذہبی اختلاف رکھتے ہوئے اپنے خدا کی اس طرح پرستش کریں جس طرح یہود کو یہ حق ہے کہ وہ اپنے خدا کی پرستش کریں۔یعنی جس کو خدا سمجھتے ہیں اس کی پرستش کریں۔چنانچہ حضرت سلیمان کے زمانہ میں ان غیر قوموں کو مذہبی آزادی کا حق ملا ہے۔جو اس سے پہلے اس حق سے محروم تھیں اور بہت وسیع حکومت تھی آپ کی ، وہاں حقیقت میں اکثریت تو غیر قوموں کی تھی اور اسرائیل کو خدا نے اگر چہ بادشاہت عطا کی تھی مگر اسرائیلی ایک اقلیت میں تھے۔Minority میں تھے تو کتنا ظلم ہوتا کہ ایک اقلیت کے مذہب کو تو کھلی چھٹی ہوتی کہ جو چاہے کرے لیکن ملک کی اکثریت کو اس خدا کی پرستش کا حق نہ ہوتا جس کو وہ خدا سمجھ رہے ہیں تو حضرت سلیمان کا انصاف تھا جو یہودیوں کو چھتا تھا اور تکلیف دیتا تھا۔حضرت سلیمان وہ نبی ہیں جنہوں نے خدا تعالیٰ کے تصور کو یہود تک محدود نہیں رہنے دیا اور تمام بنی نوع انسان کے لئے خدا کے تصور کو عام کر کے پیش کیا جس طرح کہ ہم سورہ فاتحہ میں الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ پڑھتے ہیں اگر آپ سلاطین نمبر (۱)، باب (۸) کا مطالعہ کریں (جس