خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 43
خطبات طاہر جلد ۱۰ 43 خطبہ جمعہ ۱۸؍ جنوری ۱۹۹۱ء بداخلاقی کی۔چنانچہ وہ متقین جنہوں نے بہت تلاش کیا ان میں سے بعض نے یہ اعتراف کیا کہ صلاح الدین کے متعلق ہم نے ہر طرح سے کھوج لگایا کہ کوئی ایک بات اس کے متعلق ایسی بیان کر سکیں کہ جس نے بنیادی طور پر انسانیت کی ناقدری کی ہو، انسانی قدروں کو ٹھکرایا ہو، ظلم اور سفا کی سے کام لیا ہو، بداخلاقی سے کام لیا ہو۔مگر ایسی کوئی مثال اس کی زندگی میں دکھائی نہیں دی۔ایک ہی مثال ان کے سامنے آئی اور یہی مصنف لکھتا ہے کہ اس مثال میں بھی جس کو مغرب نے اچھالا ، دراصل کوئی حقیقت نہیں ہے۔وہ مثال یہ تھی کہ وہ یورپین شہزادہ جو حضرت اقدس محمد مصطفیٰ کے مزار کو اکھیڑنے کے لئے اس نیت کے ساتھ مدینے کی طرف روانہ ہوا تھا اور بہت قریب پہنچ چکا تھا اور اس کے ارادے بہت بد تھے۔اس کو صلاح الدین نے بالآخر پکڑ کر اس کی مہم کو ناکام اور نا مراد کیا اور جب وہ شہزادہ صلاح الدین کے سامنے پیش ہوا ہے تو اس وقت اس کا پیاس سے برا حال تھا ، ایک شربت کا گلاس وہاں پڑا ہوا تھا اس نے وہ گلاس اٹھایا اور پینے لگا تھا کہ صلاح الدین نے تلوار کی ایک ضرب سے وہ گلاس توڑ دیا کیونکہ صلاح الدین نے زیادہ حکمت عملی کے ساتھ ایک زیادہ طاقتور فوج کو شکست دی تھی اور ان کو صحراء میں آگے پیچھے کر کے ایسے اقدام پر مجبور کر دیا جس کے نتیجے میں وہ پانی سے محروم رہ گئے اور صلاح الدین کی یہ جنگ تلوار کی طاقت سے نہیں بلکہ اعلیٰ حکمت عملی کے نتیجے میں جیتی گئی تھی۔پس وہ پیاس سے تڑپتا ہوا وہاں پہنچا اور اس وقت اس شربت کے گلاس سے اس کو محروم کر دیا گیا۔یہ حقین نے ایک داغ نکالا کہ یہ داغ صلاح الدین کے چہرے پر ہے اس کے سوا ہم کچھ تلاش نہیں کر سکے۔یہ مؤرخ جس کی کتاب میں نے ایک لمبا عرصہ ہوا پڑھی تھی ، مجھے نام بھی یاد نہیں لمبا عرصہ پہلے پڑھی گئی تھی ، وہ یہ لکھتا ہے کہ جو اعتراض کرنے والے ہیں وہ عرب مزاج کو نہیں سمجھتے اور عرب اعلیٰ اخلاقی روایات کو نہیں سمجھتے۔عرب اعلیٰ اخلاقی روایات میں سے ایک یہ ہے کہ مہمان کو جو تمہارا گھر کا پانی پی چکا ہو یا تمہارے گھر کا کھانا چکھ چکا ہو اس کو قتل نہیں کرنا چاہئے اس نے کیسا ہی بھیا نک جرم کیا ہواور اس کا جرم اتنا بھیا تک تھا یعنی حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے مزار کی تو ہین کہ صلاح الدین جیسا عاشق رسول کسی قیمت پر اس کو معاف نہیں کر سکتا تھا۔پس اس کے نزدیک یہ بداخلاقی تھی کہ یہ اس کے میز سے پانی پی لیتا اور پھر وہ اس کو قتل کرتا نہ کہ یہ بداخلاقی کہ مرنے سے پہلے ایک دوسیکنڈ اور اس کو