خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 42 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 42

خطبات طاہر جلد ۱۰ 42 خطبہ جمعہ ۱۸؍ جنوری ۱۹۹۱ء جہاں تک عراق کا تعلق ہے وہ آپ جانتے ہیں کہ نقصان ہی نقصان ہے اور بہت ہی دردناک حالات ہیں۔عراق کو میں نے خطبات میں یہ بھی کھلم کھلا مشورہ دیا تھا کہ تمہیں لازم تھا کہ انتظار کرتے۔خدا تعالیٰ نے ایک طاقت عطا کی اس طاقت کو آگے بڑھانے کے لئے ابھی کھلا وقت درکار تھا اس لئے جو بھی فیصلے کئے گئے ہیں کچے ہیں، بے وقت ہیں اور نا مناسب ہیں اس لئے اس وقت اس ظلم سے اپنا ہاتھ اٹھا لو اور ترقی کرو۔جلسہ سالانہ پر میں نے عالم اسلام کو یہ توجہ دلائی تھی کہ یہ دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ایک صلاح الدین عطا کر دے۔کچھ عرصہ ہوا جب میں نے بغداد کے حالات دیکھنے کے لئے ٹیلیویژن چلایا تو اس میں ایک پروگرام دکھایا جارہا تھا جس میں بعض مسلمان علماء بڑے جوش کے ساتھ صدر صدام حسین صاحب کو صلاح الدین قرار دے رہے تھے لیکن جذبات کے نتیجے میں، اندھی وابستگی کے نتیجے میں صلاح الدین پیدا نہیں ہوا کرتے۔صلاح الدین سے میری مراد یہ نہیں تھی کہ ایک جذباتی بت کھڑا کر دیا جائے اور اس کا نام صلاح الدین رکھ دیا جائے۔صلاح الدین بننے کے لئے بہت سی صلاحیتوں کی ضرورت ہے اور ان صلاحیتوں کے علاوہ لمبے صبر کی ضرورت ہے۔سلطان صلاح الدین نے سب سے پہلے عالم اسلام کو اکٹھا کرنے کی کوشش کی تھی۔زندگی کا ایک بڑا حصہ مختلف ٹکڑوں میں بٹی ہوئی عرب ریاستوں کو یکجا کرنے اور ایک مرکزی حکومت بنانے پر عمر کا ایک بڑا حصہ صرف کر دیا اور جب وہ گھر کے حالات سے پوری طرح مطمئن ہو گئے تب انہوں نے فلسطین کے دفاع کے لئے تمام عالم کی طاقتوں کو چیلنج کیا اور دنیا جانتی ہے کہ جس طرح آج مغربی طاقتیں بغداد کے خلاف اکٹھی ہوئی ہیں اسی طرح اس زمانے میں بلکہ اس سے بھی زیادہ شدت اور جذ بے کے ساتھ اس روح کے ساتھ کہ گویا ند ہی جنگ ہے، اس روح نے ان کے اندر دیوانگی کی ایک کیفیت بھی پیدا کر دی تھی پس زیادہ شدت اور جذبے اور دیوانگی کے ساتھ صلاح الدین کی طاقت کو توڑنے کے لئے مغرب نے بار بار کوششیں کیں اور باوجود اس کے کہ وہ نسبتا کمزور تھا، باو جود اس کے کہ وہ کوئی غیر معمولی حربی صلاحیتیں یعنی جنگی صلاحیتیں نہیں رکھتا تھا اس کے باوجود ہر بار اللہ تعالیٰ اس کو فتح پر فتح عطا کرتا چلا گیا اس میں بعض اور صفات بھی تھیں ، وہ ایک بہت نیک اور متوکل انسان تھا وہ ایک ایسا شخص ہے جس کے متعلق یورپ کے شدید ترین معاند بھی حرف نہیں رکھ سکے کہ اس نے یہ ظلم کیا اور یہ