خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 44
خطبات طاہر جلد ۱۰ 44 خطبہ جمعہ ۱۸؍ جنوری ۱۹۹۱ء پیاس میں تڑپنے رہنے دیتا۔پس صلاح الدین ایک بہت بڑی عظیم شخصیت تھی جو اسلامی اخلاق کا ایک عظیم الشان مظاہرہ تھا۔ایسا حیرت انگیز مظاہرہ تھا کہ بعض مغربی مؤرخین نے اس کو عمر بن عبد العزیز ثانی کہنا شروع کر دیا اور وہ کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز میں جو صلاحیتیں جو روحانیت جو اعلیٰ اخلاق موجود تھے وہ سینکڑوں سال کے بعد صلاح الدین کی صورت میں عرب دنیا میں دوبارہ ظاہر ہوئے۔پس صلاح الدین محض جذبات سے نہیں بنا کرتے۔صلاح الدین نام بہت سی صلاحیتوں کا تقاضا کرتا ہے۔پس احمدی بھی شاید یہ پروگرام دیکھ کر جذباتی طور پر ہیجان پکڑ چکے ہوں ،وہ کہ رہے ہوں کہ دیکھو جی ، ادھر دعا کروائی ادھر صلاح الدین عطا ہو گیا۔یہ بچگانہ باتیں ہیں۔آپ کی سوچ پختہ ہونی چاہئے کیونکہ آپ تمام دنیا کی راہنمائی کے لئے پیدا کئے گئے ہیں میں آپ کو آپ کا یہ مقام یاد دلاتا ہوں آپ کسی ایک قوم اور کسی ایک مذہب کی راہنمائی کے لئے نہیں بلکہ حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ کی غلامی سے آپ نے سیادت کی صلاحیتیں حاصل کی ہیں اور حضرت محمد یہ تمام دنیا کی سیادت کے لئے پیدا فرمائے گئے اور تمام دنیا کو صحیح مشورے دینے کیلئے پیدا کئے گئے تھے۔ایسی پختگی انسانی عقل میں کبھی واقع نہیں ہوئی جیسی حضرت محمد مصطفی ﷺ کو عقل کی پختگی عطا فرمائی گئی تھی۔آپ کا دل بھی کامل تھا، آپ کی عقل بھی کامل تھی اور دل کے جذبات کو عقل میں ناجائز دخل دینے کی اجازت نہیں تھی۔آج کل جو انتہائی دردناک حالات گزر رہے ہیں ان میں بعض لوگوں کے لئے تو یہ ایک ایسا ہی تماشہ ہے جیسے کبھی کرکٹ کے میچ ہورہے ہوتے ہیں اور ان میچوں کے دوران بچے بھی اور بڑے بھی دن رات، دن رات تو نہیں یعنی دن کے حصے میں ٹیلی ویژن کے اردگرد بیٹھے تماشے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔یہ کوئی کرکٹ کا تماشہ نہیں ہے۔بہت ہی خوفناک اذیت ناک جنگ ہے Carpet Bombing کا آپ نے بار بار نام سنا ہوگا اس کا مطلب ہے کہ ایک علاقے کو مکمل طور پر اس طرح ملیا میٹ کر دیا جائے کہ کسی چیز کا کوئی نشان باقی نہ رہے اور ایک بم کے گڑھے کا تعلق دوسرے بم کے گڑھے کے کنارے سے ملتا چلا جائے۔ایسی بمبارڈ منٹ (Bombard ment) عراق پر کی جارہی ہے کہ پہلی رات میں ہی ہیرو شیما پر گرائے جانے والے ایٹم بم سے زیادہ طاقت کے بم وہاں گرائے جاچکے تھے اور اس وقت سے اب تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ان حالات میں جب تمام عالم اسلام