خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 461
خطبات طاہر جلد ۱۰ 461 خطبہ جمعہ ۳۱ رمئی ۱۹۹۱ء لوگ اس کو صرف تجارت کے لئے استعمال کرتے ہیں۔بعض اس علم کو خدا کی خاطر اس کے بندوں پر خرچ کرتے ہیں اور اس کے لئے وہ تکلیف بھی اٹھاتے ہیں اور خود اپنی جان پر ان کو خرچ کرنا پڑتا ہے تو ان دونوں چیزوں میں دیکھیں کتنا فرق ہے۔پس قرآن کریم نے جو ہمیں سکھایا وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (البقرہ:۴) کہ جو کچھ ہم ان کو عطا کرتے ہیں۔یا جو کچھ ہم نے ان کو دیا اس میں سے وہ خرچ کرتے چلے جاتے ہیں۔تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جب حضرت سلیمان نے یہ دعا کی تو آپ کی دعا کے پیچھے بہت بڑا مضمون تھا۔کیونکہ حضرت سلیمان کو خدا نے بہت کچھ دیا تھا۔اتنی حکمت دی تھی کہ دنیا کے پردے پر کبھی کسی انسان کو اس زمانے میں وہ حکمت نہ ملی اور ساری دنیا میں آپ کی حکمت کی باتیں اس وقت بھی شہرت پاگئیں اور آج تک حضرت سلیمان علیہ السلام کو دنیا عظیم الشان فلسفی حکیم، ایک دانشور ایک دانا انسان کے طور پر جانتی ہے۔پس حکمتوں کا شکریہ کیسے ادا کریں جب تک حکمتوں کے موتی نہ بکھیریں، جب تک ساری دنیا کو اپنی حکمتوں سے فائدہ نہ پہنچانے کی کوشش نہ کریں۔پھر بادشاہت وہ عطا کی جس کی کوئی مثال یہودی تاریخ میں نہیں ملتی، نہ پہلے نہ بعد میں اس زمانے سے آج تک کبھی کسی کو ایسی شاندار دنیا وی بادشاہت نہیں ملی جیسی خدا کے اس پاک نبی کو دنیاوی بادشاہت ملی اور پھر روحانی بادشاہت بھی عطا ہو گئی ، نبی بنائے گئے۔اس سے بڑھ کر اور کیا نعمت ہو سکتی ہے تو یہ ساری باتیں حضرت سلیمان کے ذہن میں تھیں اگر چہ اس سے پہلے آپ کے باپ حضرت داؤد کو بھی نعمتیں ملی تھیں مگر جو شان و شوکت یہود کی سلطنت کو حضرت سلیمان کے زمانے میں عطا ہوئی ویسی اور کبھی کسی کو عطا نہیں ہوئی۔اب اس کو دوبارہ پڑھیں تو پھر آپ کو سمجھ آئے گی کہ کیوں عاجزی کے ساتھ خدا کے حضور گر کرمنت کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ اے خدا تیری نعمتیں تو میری حد سے بڑھ گئی ہیں۔کس طرف دیکھوں جہاں تیری نعمت نہیں۔کس بات پر غور کروں جہاں مجھے تیرے احسان نہ دکھائی دیتے ہوں۔پس تو ہی ہے جو مجھے اپنی اس چھوٹی سی زندگی میں اپنے شکریے کا حق ادا کرنے کی توفیق بخش سکتا ہے۔ان باتوں کو سوچتے ہوئے اس سارے پس منظر کو دماغ میں رکھتے ہوئے اگر ہم میں سے ہر ایک چھوٹا بڑا خدا کی نعمتوں پر غور کرے اور عاجزانہ طور پر یہ عرض کرے کہ اے خدا ! جو کچھ تو نے مجھے دیا ہے اس پر مجھے تو فیق بھی دے کہ میں تیر اسچا شکر یہ ادا کروں۔جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا اگر