خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 462
خطبات طاہر جلد ۱۰ 462 خطبہ جمعہ ۳۱ رمئی ۱۹۹۱ء کوئی ڈوبتے کو بچاتا ہے اور بعد میں اس شخص کا کوئی بچہ ڈوب رہا ہو یا اس کا کوئی پیار مشکل میں ہوتو اس کو دیکھ کر وہ شخص جس کو بچایا گیا ہے وہ آنکھیں پھیر کر چلا جائے تو یہ ناشکری ہوگی۔یہ ظلم ہوگا۔اس کے لئے یہ کافی نہیں ہے کہ جب اس کو بچایا گیا تھا تو اس نے بچانے والے کو شکر یہ کہہ دیا۔پس اللہ کو تو ہم نعوذ باللہ کسی شکل میں احسان کا بدلہ براہ راست نہیں دے سکتے۔وہ تو ساری کائنات کا پیدا کرنے والا ہر چیز کا مالک وہ ہمیں زندگی عطا کرنے والا، ہمیں سب نعمتیں عطا کرنے والا ، ہم اس کا شکریہ کس طرح ادا کریں۔ایک ہی رستہ ہے کہ اس کے رستے پر خرچ کریں۔ان بندوں پر احسان کریں جو خدا کے بندے ہوں اور ہمیں خدا اس احسان کا موقعہ عطا فرئے۔پس اس دعا نے ہمیں حکمت کی بہت کچھ باتیں سکھائی ہیں۔اب آپ دیکھ لیجئے خدا کے بہت سے بندے تکلیف میں کئی قسم کی مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں۔ہم یہاں ایک سکول دیکھنے گئے تھے جو ایک ڈچ نیک دل انسان نے قائم کیا تھا اور اب بڑھتے بڑھتے کافی ترقی کر گیا ہے۔اس میں معذور و مجبور بچے ہیں جن کی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔جن کو اس قابل بنانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہ زندگی میں ایک عزت والا مقام حاصل کر سکیں اور کسی کی محتاجی کے بغیر اپنا گزارا کر سکیں۔یہ بہت نیکی کا کام ہے۔جو احمدی ہے اس کے اوپر تو ہر دوسرے سے بڑھ کر یہ فرض ہے کہ وہ خدا کا شکر ادا کرنے کے لئے ایسے لوگوں پر احسان کرے۔جب ہم میں سے کسی کے ہاں کوئی معذور بچہ پیدا ہو جاتا ہے تو ایسا شخص اگر بد قسمت ہو تو بعض دفعہ خدا پر باتیں بنانے لگ جاتا ہے۔وہ کہتا ہے اللہ تعالیٰ نے مجھ پر ہی ظلم کرنا تھا اور ساری دنیا رستی بستی ہے اس کو تکلیف نہیں پہنچتی اور مجھے خدا نے چن لیا۔یہ اس کی جہالت ہے جو کچھ خدا نے دیا ہے اس میں سے تھوڑا سا نہ دینے پر اتنی تکلیف ہو، اتنا جزع فزع اور خدا پر اتنی باتیں بنانا اور یہ نہ دیکھنا کہ اس نے جو دیا ہے وہ بہت زیادہ ہے اور مالک ہے وہ اگر وہ بھی واپس لے لے جو دے چکا ہے تو کسی کا کوئی بس نہیں۔دوسرے ان باتوں پر غور کرنے سے ، اگر وہ سچے دل سے غور کرتا تو اس کو بہت بڑی حکمت سمجھ آ جاتی۔اللہ تعالیٰ جن کو دیتا ہے ان کی آزمائش بھی کرتا ہے اور یہ دیکھتا ہے کہ جن کو میں نے عطا کیا ہے وہ میرے شکریے کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ نہیں۔خدا تو نعوذ باللہ لوں لنگڑا نہیں ہوسکتا خدا بے نور نہیں ہو سکتا۔آپ کو آنکھیں عطا ہوئیں تو اگر بے آنکھوں والوں کی خدمت نہ کریں گے تو