خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 460 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 460

خطبات طاہر جلد ۱۰ 460 شعری قلبی مضمون بیان ہوا ہے۔عرض کرتے ہیں کہ :۔کچھ تیری عطا ہے خطبہ جمعہ ۳۱ رمئی ۱۹۹۱ء گھر سے تو کچھ نہ لائے ( در ثمین صفحہ:۔۔) جو کچھ نعمتیں تو نے ہمیں بخشی ہیں ان میں سے کوئی بھی ایسی نہیں جو ہم نے خود بنائی ہو۔سب تیری عطا ہے اگر تیرے حضور واپس کر دیں تو اس کے نتیجے میں ہم تو تجھے کچھ دینے والے نہیں بنیں گے۔پس شکریہ ادا کرنا زبان سے اور بات ہے اور دل سے شکر یہ ادا کرنا اور بات ہے۔جب دل سے شکریہ ادا ہو تو پھر انسان کے اندر تڑپ پیدا ہو جاتی ہے کہ میں شکریے کا حق ادا کرنے کی کوشش کروں۔آپ دیکھیں کہ اللہ ہمیں جو توفیق بخشتا ہے ہم اس کے حضور چندے دیتے ہیں اور اس معاملے میں ساری دنیا میں سب سے نمایاں جماعت احمد یہ ہے۔ساری دنیا کے پردے پر تلاش کر کے دیکھ لیجئے آپ کو احمد یہ جماعت سے بڑھ کر خدا کی راہ میں مالی قربانی کرنے والی کوئی جماعت نہیں ملے گی۔بڑے، چھوٹے ، جوان ، سارے توفیق کے مطابق کچھ نہ کچھ دیتے ہیں لیکن بعض لوگ جو کچھ زیادہ دینے کی توفیق پاتے ہیں ان کے دماغ میں بعض دفعہ یہ کیڑا پڑ جاتا ہے کہ اچھا جماعت تو ہم پر منحصر ہے۔ہماری قربانیاں ہیں جن کے نتیجے میں جماعت چل رہی ہے اور بعض ایسے لوگوں کا انجام پھر برا ہوتا ہے۔خدا انہیں باہر نکال پھینکتا ہے لیکن وہ لوگ جو بجز کے ساتھ قربانی کرتے ہیں جن کے دل میں شکر یہ پیدا ہوتا ہے وہ جانتے ہیں کہ سب کچھ خدا کی عطا ہے ہم نے جو کچھ واپس کیا اس کا بہت تھوڑا واپس کیا جو اس نے ہمیں دیا تھا اس لئے ہمارا احسان نہیں ہے خدا کا یہ بھی احسان ہے کہ اس نے ہمیں دیا اور یہ بھی احسان ہے کہ اس میں سے کچھ اس کے حضور پیش کیا۔پس انبیاء اسی لئے شکریے کا حق ادا کرنے کی توفیق مانگتے ہیں۔وہ جانتے ہیں ، وہ عارف باللہ ہوتے ہیں ان کو پتا ہے کہ خدا کے احسان بہت زیادہ ہیں۔ان کو پتا ہے کہ خالی زبان سے الحمد للہ کہنا کافی نہیں ہے۔بدن کو بھی شکریے کے ساتھ خدا کے حضور جھکنا ہوگا۔جذبات کو بھی جھکنا ہوگا۔خدا نے جو کچھ ہمیں عطا کیا ہے اس میں سے کچھ نہ کچھ ہمیں اس کا شکریہ ادا کرنا ہو گا۔اب اللہ کی نعمتیں بے شمار ہیں ہر نعمت کا شکریہ اس کے رنگ میں ادا ہوا کرتا ہے۔ایک شخص کو اللہ نے علم عطا کیا ہے وہ اپنے علم سے پیسے کما بھی سکتا ہے اور پیسے لگا کر اپنے علم سے لوگوں کو فائدہ پہنچا بھی سکتا ہے۔علم تو وہی ہے جو خدا نے دیا ہے بعض