خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 40 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 40

خطبات طاہر جلد ۱۰ 40 خطبه جمعه ۱۸ جنوری ۱۹۹۱ء ظاہری قبلہ مغرب کی طرف ہے اور باطنی قبلہ کسی اور طرف ہے مگر حیرت ہوتی ہے خانہ کعبہ کے محافظین پر کہ جو بیت اللہ میں رہتے ہوئے بھی مغرب کو سجدہ کرتے ہیں۔ آج عالمی مسائل سے مسلمانوں کو بچانے کے لئے سب سے اہم ضرورت قبلہ سیدھا کرنے کی ہے۔ جب تک ہمارا قبلہ سیدھا نہیں ہوتا اس وقت تک ہمارا کوئی مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ ایک زمانہ تھا کہ جب مسلمان قوم دو ایسے حصوں میں بٹی ہوئی تھی کہ ایک کا قبلہ مشرق کی طرف ہو چکا تھا اور ایک کا مغرب کی طرف اور دونوں میں سے کسی کا قبلہ بھی بیت اللہ کی طرف نہیں تھا وہ اپنے تمام مسائل میں یا مغربی قوموں کی طرف دیکھتے تھے یا مشرقی طاقتوں کی طرف۔ جو سیاسی تبدیلیاں روس میں اور روس اور امریکہ کے تعلقات میں پیدا ہوئی ہیں ان کے نتیجے میں اب ایک قبلہ تباہ ہو چکا ہے اور ایک ہی قبلہ باقی رہ گیا ہے ان کے لئے لیکن جو حقیقی قبلہ کبھی تباہ نہیں ہو سکتا ، جو دائمی ہے اور ہمیشہ کے لئے مسلمانوں کے لئے نجات کا ذریعہ بنایا گیا اس قبلے کی طرف رخ نہیں کرتے ۔ پس آج کے دور میں سب سے اہم ضرورت قبلہ درست کرنے کی ہے۔ یہ انتہائی دردناک حالات جو اس وقت عالم اسلام پر مصیبتیں بن کر اتر رہے ہیں ، اس سے کئی قسم کے رد عمل پیدا ہور ہے ہیں اور میں مختصراً ان سے متعلق جماعت کے سامنے وضاحت کرتا ہوں اور پھر جماعت کو نصیحت کروں گا کہ ان کو اسلامی تعلیم کے لحاظ سے کیا ردعمل دکھانا چاہئے ۔ ایک بڑا حصہ سعودی عرب کی امامت میں یعنی مسلمان ممالک کا ایک بڑا حصہ سعودی عرب کی امامت میں کلیہ مغرب پر اپنا انحصار کر بیٹھا ہے اور اس بات میں کوئی بھی عار نہیں اور کوئی مضائقہ نہیں سمجھا جاتا کہ عالم اسلام پھٹتا جا رہا ہے اور دن بدن ان کے رخنے زیادہ گہرے ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ عراق نے جو کچھ بھی کیا ، جیسا کہ آپ خطبوں میں پہلے سن چکے ہیں۔ جماعت احمد یہ نے کبھی بھی عراق کے کویت پر اس حملے کی تائید نہیں کی ، جماعت احمد یہ کا موقف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیم کے مطابق تمہارا بھائی اگر ظالم بھی ہو تو اس کی اس طرح مدد کرو کہ اس کے ہاتھ ظلم سے روکو۔ چنانچہ اس پہلو سے ہم نے عراق کی بارہا مدد کرنے کی کوشش کی ۔ پیغامات بھجوائے گئے ، خطبات میں بھی ہر طرح سے یہ مضامین بیان کئے کہ دو باتیں ایسی ہیں جو آپ کو ظلم میں شریک کر دیتی ہیں اور اللہ تعالیٰ سے اگر آپ مدد چاہتے ہیں تو ظلم سے ہاتھ کھینچنا ہوگا ۔ پہلی