خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 41 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 41

خطبات طاہر جلد ۱۰ 41 خطبہ جمعہ ۱۸؍ جنوری ۱۹۹۱ء بات یہ کہ کویت سے آپ کو اپنی فوجیں واپس بلا لینی چاہئیں اور عالمی برادری کے سامنے نہیں بلکہ مسلمان برادری کے سامنے کویت کے ساتھ اپنا معاملہ طے کرنے کے لئے پیش کریں اور امن کے ساتھ اور سمجھوتے کے ساتھ آپ کے اختلافات طے ہوں یہی قرآنی تعلیم ہے اور اسی تعلیم کے مطابق ہم نے بغداد کونصیحت کی۔دوسری بات ان کے سامنے یہ پیش کی گئی کہ باہر کے ملکوں کے نمائندے جو آپ کے ملک میں مختلف خدمات پر مامور تھے اور اسی طرح مختلف سفارتکار، وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ کے پاس امانت ہیں اور اس امانت میں آپ نے خیانت نہیں کرنی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کا یہ احسان ہے کہ خواہ یہ نصیحت ان تک پہنچی ہویا نہ پہنچی ہو، از خود انہوں نے ایک معقول فیصلہ کیا اور مبنی بر انصاف فیصلہ کیا اور اپنے پہلے مؤقف کو تبدیل کر کے اس منصفانہ موقف پر آگئے کہ ہمیں کسی Human Sheild کی ضرورت نہیں ہے ، جو غیر ملکی باشندے ہیں وہ جہاں چاہیں جب چاہیں واپس جاسکتے ہیں یہاں تک کہ ان کے اخباری نمائندگان کو بھی انہوں نے آج تک ایسی غیر معمولی سہولتیں دیئے رکھی ہیں کہ جن کے متعلق مغرب میں بھی یہ تصور نہیں ہو سکتا کہ جب یہ اپنی زندگی اور موت کی جنگ میں اس طرح مصروف ہوں تو اتنی آزادی کے ساتھ غیر ملکی سفارتکاروں کو حالات کا جائزہ لینے اور باہر خبریں بھجوانے کا موقعہ دیں تو ایک پہلو سے تو وہ ظلم سے باز آگئے لیکن کویت کے مسئلے پر اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا حکمتیں تھیں، کیا مجبوریاں تھیں کہ انہوں نے اپنا قدم واپس لینے سے انکار کر دیا اور اس انکار پر مصر رہے اس کے نتیجے میں جو خوفناک جنگ اس وقت وہاں لڑی جارہی ہے وہ ظاہر ہے کہ بالکل یک طرفہ ہے وہ تمام طاقتیں جو بغداد کے خلاف اکٹھی ہو گئی ہیں ان میں مسلمانوں کا حصہ یہ ظاہر کرنے کے لئے ڈالا گیا ہے کہ یہ کوئی اسلام اور غیر اسلام کی جنگ نہیں بلکہ ایک ظالم کے خلاف مسلمان ممالک کی مدد کے لئے ہم قربانی کر رہے ہیں۔اس قربانی کی حیثیت کیا ہے یہ تو سب دنیا جانتی ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ وہ قربانی اس نوعیت کی ہے کہ غیر معمولی فوائد مغرب کو پہنچ رہے ہیں جن کا عام آدمی تصور بھی نہیں کرسکتا۔جو ریڈی اور ٹیلی ویژن پر پرو پیگنڈا ہورہا ہے اس پروپیگنڈا کے پس پردہ بہت سے امور ہیں جو واقعات ہیں اور ان کو سمجھے بغیر آپ کو اندازہ نہیں ہو سکتا کہ اس خوفناک جنگ کے نتیجے میں کونسی طاقت فائدے اٹھائے گی اور کونسی طاقت نقصان اٹھائے گی۔