خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 39
خطبات طاہر جلد ۱۰ 39 39 خطبہ جمعہ ۱۸؍ جنوری ۱۹۹۱ء خلیج کا بحران۔عراق کو نیست و نابود کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے افریقہ کے فاقہ زدہ ممالک کیلئے صدقات کی تحریک۔(خطبه جمعه فرموده ۱۸ جنوری ۱۹۹۱ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔پیر صاحب پگاڑا جو پاکستان کے ایک بزرگ سیاستدان ہیں انہیں خدا تعالیٰ نے ایک خاص ملکہ عطا فرمایا ہے۔ان جیسا ملکہ اور کسی پاکستانی سیاستدان میں میں نے نہیں دیکھا۔مزاح کی زبان میں اور لطیف مزاح میں لپیٹ کر وہ بعض دفعہ ایسی ٹھوس حقیقتیں بیان کر دیتے ہیں جو اگر ظاہری کھلے کھلے لفظوں میں بیان کی جائیں تو ویسا اثر پیدا نہیں کر سکتیں اور ایسی باتیں بھی کہہ جاتے ہیں جو وہ بعض حالات میں کھلم کھلا کہنا مناسب نہ سمجھتے ہوں مگر اشاروں کی اس زبان میں جو خاص طور پر مزاح میں لپٹی ہوئی ہوتی ہے وہ اپنے مافی الضمیر کو ادا کرنے کی خاص قدرت رکھتے ہیں۔پیچھے کچھ عرصہ ہوا کسی نے ان سے پوچھا کہ بتائیے کہ مشرقی پاکستان جو پہلے ہوا کرتا تھا وہاں کے ان مسائل کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھ سے مشرق کی باتیں کیا پوچھتے ہو۔ہمارا تو قبلہ مغرب کی طرف ہے اور مغرب ہی کو ہم سجدہ کرتے ہیں اس لئے مغرب کی باتیں پوچھو۔کیسی لطیف بات ہے اور کتنی گہری ہے۔تو مزاح کے پردے میں لپٹی ہوئی لیکن ایک انتہائی دردناک حقیقت ہے جو روز بروز کھل کر ظاہر ہوتی چلی جارہی ہے۔وہ قو میں جو قبلہ یعنی بیت اللہ سے مشرق کی طرف واقع ہیں ان کا ظاہری قبلہ تو بہر حال مغرب ہی کی طرف ہوگا لیکن پیر صاحب کی مراد یہ نہیں تھی بلکہ یہ مراد تھی کہ