خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 411 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 411

خطبات طاہر جلد ۱۰ 411 خطبہ جمعہ ارمئی ۱۹۹۱ء یہ نہ خیال کر لینا کہ خدا نے اس کو حکم دیا کہ تو فلاں جگہ جا اور وہ نافرمانی کرتے ہوئے کسی اور جگہ کی طرف چل پڑا تو مرسل وہ بہر حال تھا۔مرسلین سے بھی بعض دفعہ کچھ غفلتیں ہو جاتی ہیں۔عام انسان اس سے سینکڑوں گنا بڑی غفلتیں کرتا ہے اور پکڑا نہیں جاتا۔کیونکہ اس کے معیار کے مطابق وہ گناہ نہیں بنتا لیکن جتنا بلند مقام ہو اتنا ہی داغ نمایاں ہوتا جاتا ہے اور معمولی داغ بھی سفید کپڑوں پر بڑا ہوکر دکھائی دیتا ہے۔پس یہ مضمون ہے جس کی طرف قرآن کریم اشارہ فرما رہا ہے۔وَإِنَّ يُونُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ کہ یونس بہر حال مرسلین میں سے تھا۔خدا کے برگزیدہ بندوں میں سے تھا۔جس کو خدا نے اپنا پیغامبر بنا کر بھیجا تھا۔اس لئے جو کچھ بھی اس سے غلطی ہوئی وہ مرسلین میں پھر بھی رہے گا اور سننے والوں پر یہ واجب ہے کہ وہ ادب کے تقاضوں کو ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔إِذْ اَبَقَ إِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ (الصفت : ۱۴۱) جب وہ بھاگتا ہوا ایک بھرے ہوئے جہاز میں داخل ہوا ابق کا مطلب ہے جیسے گاڑی چھوٹتی ہوئی آپ دیکھتے ہیں تو ڈر کے پکڑتے ہیں گاڑی یا جہاز کی سیٹیاں بج چکی ہیں۔رخصت ہونے والا ہے تو آپ تیزی سے آگے جاتے ہیں کہ میں رہ نہ جاؤں تو فرمایا کہ وہ جہاز پہلے ہی بھرا ہوا تھا اور چل رہا تھا۔حضرت یونس نے دیکھا تو دوڑ کر اس کو پکڑا فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِينَ (الصفت : ۱۴۲) قرعہ حضرت یونس نے ڈالا۔اقرار وغیرہ کا کوئی ذکر نہیں ہے کہ اپنے گناہوں کا ان کے سامنے اقرار کیا۔معلوم ہوتا ہے جہاز ڈولا ہے۔پہلے ہی بھرا ہوا تھا،طوفان آگیا ہے ، لوگ ڈر گئے تو فیصلہ ہوا کہ قرعہ ڈالا جائے اور جہاز کا لفظ تو اس پر اطلاق ہی نہیں کرتا، اس زمانے کے لحاظ سے جہاز کہلاتا ہوگا لیکن ایک عام کشتی تھی ورنہ جہاز سے ایک آدمی کے پھینک دینے سے کوئی فرق نہیں پڑا کرتا۔اتنی بڑی کشتی تھی۔اس سے بڑی نہیں تھی کہ اگر اس میں سے ایک آدمی بھی باہر پھینک دیا جائے تو اس کے نہ ڈوبنے کے امکان پیدا ہو سکتے ہیں۔بچ جانے کے امکان پیدا ہو سکتے ہیں۔چنانچہ خدا کی شان ہے کہ یونس سے قرعہ ڈلوایا گیا اور اس میں ایک یہ بھی حکمت ہے کہ پہلے ہی چونکہ بہت سے مسافر بھرے ہوئے تھے، حضرت یونس چونکہ بعد میں آئے تھے، اگر کوئی اور قرعہ ڈالتا تو حضرت یونس کو یہ شک پڑ سکتا تھا کہ مجھے انہوں نے نکالنا ہی تھا بہانہ بنالیا ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے حضرت یونس کو بتانے کے لئے کہ میری تقدیر کام کر رہی ہے اس میں کسی بندے کی سازش کا دخل نہیں ہے ایسا انتظام کیا کہ کشتی والوں نے آپ ہی کو کہا کہ آپ قرعہ ڈالیں