خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 412
خطبات طاہر جلد ۱۰ 412 خطبہ جمعہ ارمئی ۱۹۹۱ء چنانچہ جب قرعہ نکالا تو آپ کا اپنا نام نکلا اور الْمُدْ حَضِینَ یعنی سمندر میں پھینکے ہوؤں میں سے وہ ہو گیا۔فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَهُوَ مُلِيْمٌ (الصفت : ۱۴۳) اس حالت میں مچھلی نے اسے نگلا کہ وَهُوَ مُلِيم کہ وہ ملامت کرنے والا تھا۔یعنی اپنے نفس پر ملامت کرنے والا تھا ملامت زدہ تھا۔فَلَوْلَا أَنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ (الصفت : ۱۴۴) پس اگر ایسا ہوتا کہ اس سے پہلے وہ خدا کی تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتا لَبِثَ فِي بَطْنِعَ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ (الطفت : ۱۳۵) تو یونس مچھلی کے پیٹ میں اس وقت تک رہتا کہ جس وقت دوبارہ انسانوں کو حشر کے دن اٹھایا جائے گا۔ان آیات میں اگر آپ ذرا سا مزید غور کریں تو حضرت یونس کے ساتھ جو واقعات پہلے گزرے تھے ان کا بڑے لطیف رنگ میں ذکر موجود ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ہمیں بتایا کہ خدا تعالیٰ جب اپنے بندوں کو سبق دیتا ہے تو نہایت ہی لطیف رنگ میں ان غلطیوں سے مناسبت رکھتے ہوئے سبق دیتا ہے جو ان سے پہلے ہو چکی ہوئی ہوتی ہیں۔اب یاد کریں کہ حضرت یونس نے ایک بھرے ہوئے شہر کو چھوڑا تھا۔وہ بھرا ہوا شہر ایسا تھا کہ جو اپنے گناہوں کے باعث ہلاک ہونے کے لائق تھا اور خدا کی تقدیر نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ صرف یونس علیہ السلام ایک ایسا انسان ہے جو بچائے جانے کے لائق ہے اور بھرے ہوئے شہر کو ہلاکت کا نشانہ بنتے ہوئے چھوڑ کر خدا کی وحی کے مطابق حضرت یونس اس شہر سے الگ ہوئے۔چونکہ اس کے بعد ان سے ایک غلطی سرزد ہوئی اور دل میں یہ خیال گزرا که شاید دخدا میرے خلاف کوئی فیصلہ نہ کرے چونکہ آپ مرسلین میں سے تھے اس لئے ہم یہ بدظنی نہیں کریں گے کہ یہ خیال انہوں نے کیا کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر قادر نہیں ہوسکتا۔میں نے غور کیا ہے میں سمجھتا ہوں کہ یہ ترجمہ کرنا یہاں درست نہیں ہے بلکہ بہت ہی لطیف بات ہے جو بیان ہوئی ہے۔وہ یہ ہے کہ حضرت یونس نے یہ سوچا ہوگا کہ وہ خدا جو ایک لاکھ گنہگاروں کو سخت گناہوں کے باوجوداس فیصلے کے باوجود کہ میں ان کو ہلاک کر دوں گا ، پھر معاف کر دیتا ہے تو مجھے کہاں پکڑے گا پھر؟ میں تو نیک بندوں میں شمار ہوتا ہوں، میں تو اس کے مرسلین میں سے ہوں ، مجھ سے تو زیادہ رحمت کا سلوک کرے گا۔پس اس آیت یعنی مجھ پر قدرت نہیں پاسکے گا کا یہ مطلب ہے کہ اللہ میرے خلاف فیصلہ نہیں دے گا۔جو انت رحم کرنے والا خدا ہے اس نے مجھے کہاں کچھ کہنا ہے؟ لیکن یہ بات وہ بھول گئے کہ ہر شخص سے اس کے حالات اور اس کی توفیق کے مطابق سلوک کیا جاتا ہے۔خدا کے نیک بندوں