خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 410
خطبات طاہر جلد ۱۰ 410 خطبہ جمعہ ارمئی ۱۹۹۱ء نہ صرف توبہ کی بلکہ ایسے درد ناک طریق پر اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگی کہ أَرْحَمُ الرَّحِمِینَ خدا ایسی التجاؤں کو رد نہیں فرمایا کرتا۔چنانچہ بیان کیا جاتا ہے، لیکن یہ قرآن کریم کا بیان نہیں یہ روایات کا اور بائیبل کا بیان ہے کہ بستی کے لوگوں نے حضرت یونس کے نکل جانے کے بعد یہ خیال کیا کہ ہم سے غلطی ہوئی ہے۔یہ خدا کا نیک بندہ تھا اس کی باتیں ضرور پوری ہوں گی۔اس لئے نجات کی صرف یہ راہ ہے کہ ہم سارے اس شہر کو چھوڑ کر باہر میدان میں نکل جائیں اور خدا کے حضور سخت گریہ وزاری کریں اور گریہ وزاری کا اثر بڑھانے کے لئے اور لوگوں کے دلوں میں درد پیدا کرنے کے لئے انہوں نے یہ ترکیب کی کہ ماؤں نے اپنے بچوں کو دودھ نہیں پلایا اور بکریوں کے بچوں کو بھی تھنوں سے جدا رکھا گیا اور باہر میدان میں جب اس حالت میں گئے تو بچوں کے رونے اور چلانے اور جانوروں کے، جو بھو کے تھے اور پیاسے تھے، شور مچانے کے نتیجے میں ایک کہرام مچ گیا اور ایسی درد ناک حالت ہوئی کہ وہ سارا بڑا میدان جس میں ایک لاکھ کے لگ بھگ شہر کے لوگ بڑے چھوٹے موجود تھے ، وہ قیامت کا نمونہ بن گیا اور اس طرح وہ روئے اور چلائے کہ جیسے جانوروں کو ذبح کیا جاتا ہے اور وہ تڑپتے ہیں تو چنانچہ خدا تعالیٰ کو اس حالت پر رحم آگیا اور خدا نے اپنے وعدے کو ٹال دیا چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ کاش باقی لوگ بھی جن کو خدا کے انبیاء نے ڈرایا یونس کی قوم کی طرح ہوتے وہ گریہ وزاری کرتے۔وہ تو بہ واستغفار کرتے ، ہم ان کو بھی بخش دیتے اور ان کا دنیا میں نفع کی حالت میں رہنا لمبا کر دیا جاتا، یعنی اچھی حالتیں ان کی لمبی کر دی جاتیں اور ان کو خدا کا عذاب نہ پکڑ لیتا تو یہ وہ واقعہ ہے، حضرت یونس چونکہ اس بات سے بے خبر تھے جب وقت معینہ گزر گیا اور ایک دیہاتی جو اس شہر سے آرہا تھا اس سے حضرت یونس نے پوچھا کہ کیوں جی بتاؤ اس بستی کا کیا حال ہے؟ تو اس نے کہا وہ ٹھیک ٹھاک ہے ، بس رہے ہیں۔اس پر حضرت یونس اتنے دل برداشتہ ہوئے کہ وہ سمجھتے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا اور میرے ذریعے ان کو یہ وعید دیا تھا کہ تم ہلاک کئے جاؤ گے اور ہلاک نہیں کیا۔تو شرم کے مارے وہ ہستی کو نہیں لوٹے۔قرآن کریم اس کے بعد کے واقعات کو بہت ہی لطیف انداز میں بیان فرماتا ہے۔فرماتا ہے وَإِنَّ يُونُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ الطفت :۱۴۰) یا درکھو یونس مرسلین میں سے تھا۔اس گواہی کے ساتھ اس کہانی کا آغاز ہوتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے متعلق ایسی بات نہ کہہ دینا جو مرسلین کی شان کے خلاف ہے۔اس کے متعلق