خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 401
خطبات طاہر جلد ۱۰ 401 خطبہ جمعہ ارمئی ۱۹۹۱ء زندگی کے مختلف مراحل پر مختلف حالات پر چسپاں ہوتی ہے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے روزمرہ کے سفروں کے سوا دنیا کے ہر سفر پر جو ظاہری ہو یا روحانی ہواس کا اطلاق ہوتا ہے۔پس دنیا کے کاروبار میں جہاں مثلاً انسان بعض ملازمتیں مثلاً کرتا ہے اور ترقیاں پاتا ہے اس وقت بھی یہ دعا کام آسکتی ہے ورنہ بعض لوگ ترقی پاتے ہیں اور پھر ذلت کے ساتھ نکالے جاتے ہیں۔تو پیشتر اس سے کہ وہ ترقی حاصل کریں اگر اس دعا کو وہ اپنی حرز جان بنا چکے ہوں اور ہمیشہ اس دعا کی طرف ان کی توجہ رہے تو زندگی کا جو بھی مرحلہ پیش آئے گا جس میں ایک حالت دوسری حالت میں تبدیل ہوتی ہے یہ دعا ان کے کام آئے گی۔اب وہ چند دعائیں جو اس کے بعد قرآن میں بیان ہوئی ہیں وہ میں بیان کر چکا ہوں۔اب حضرت ایوب کی اس دعا کی طرف آتا ہوں سورۃ انبیاء آیت ۸۴ میں اس کا ذکر ہے۔وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَی رَبَّةَ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرَّحِمِينَ اور یاد کرو ایوب کو کہ جب اس نے بڑے درد سے اپنے رب کو پکارا کہ اے خدا مجھے تو بہت ہی دکھ پہنچ چکا ہے وَأَنْتَ اَرْحَمُ الرَّحِمِينَ اور میں جانتا ہوں کہ سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر تو رحم کرنے والا ہے۔اس سلسلے میں حضرت ایوب کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کا مختصراً ذکر کرتا ہوں اور آپ کا تعارف بھی کرواتا ہوں کیونکہ بہت سے لوگ حضرت ایوب کے متعلق بہت کم جانتے ہیں۔حضرت ایوب حضرت عیسی علیہ السلام سے پندرہ سو سال کے لگ بھگ پہلے پیدا ہوئے۔۱۵۵۰ء کے قریب بیان کیا جاتا ہے اور حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام سے دوسو سال پہلے۔آپ کی شخصیت کے متعلق اختلافات پائے جاتے ہیں۔بعضوں کے نزدیک آپ بنی اسرائیلی نبی تھے اور بعضوں کے نزدیک آپ باہر کے کوئی نبی تھے جن کا ذکر وہاں ملتا ہے۔مسلمان مفسرین نے آپ کو شام کے علاقے میں پیدا ہو نیوالا بتایا ہے اور بائیل میں مقام کا ذکر ہے لیکن اس کا مجھے صحیح پتا نہیں چل سکا کہ وہ کس علاقے کا شہر ہے جس کی طرف آپ کو نسبت دی گئی ہے۔غالباً موز ولفظ ہے جس کے متعلق میں ابھی تحقیق نہیں کر سکا کہ وہ کونسا علاقہ بتایا جاتا ہے۔بہر حال جہاں تک بائیل کی روایات کا تعلق ہے ان کا خلاصہ یہ بنتا ہے کہ حضرت ایوب کو خدا تعالیٰ نے بہت سی نعمتیں عطا فرمائیں، دنیاوی اموال بھی ، ریوڑ گلے ، ہر قسم کے جانور، بیوی بچے ، بہت ہی خوشحالی عطا فرمائی اور اس وقت علاقہ کے امیر ترین